سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 82

سيرة النبي عمال 82 جلد 2 کہ فلاں وزیر کو پہنچا دے وہ نہیں جانتا کہ چٹھی میں کیا ہے یا کیا نہیں، اس کا کام پہنچا دینا ہے۔یا مثلاً اس کے ہاتھ زبانی پیغام بھی کہلا بھیجے تب بھی وزیر جو کچھ اس سے کہے گا وہ پیغا مبر سے اکمل مفہوم ہو گا۔اس مثال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا پر تو جبرائیل کے ذریعہ نبی پر پڑے مگر جبرائیل کو معلوم ہی نہ ہو کہ کیا ہے۔اس کا پتہ حدیث سے بھی لگتا ہے۔معراج کی حدیث میں آتا ہے کہ ایک مقام پر جا کر جبرائیل نے رسول کریم ﷺ کو کہا آگے آپ ہی جائے میں نہیں جا سکتا 1۔تو جبرائیل کے ذریعہ جو کچھ پہنچایا گیا وہ ایسا ہے جیسا کہ کسی کو ایک پیغام دے کر کسی کے پاس بھیجا جائے جس میں سے کچھ تو وہ سمجھ لے اور کچھ ایسے اشارے ہوں جنہیں وہی سمجھ سکتا ہو جس کے پاس پیغام بھیجا گیا یا وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔اسی طرح جبرائیل کو جو کچھ دیا گیا وہ لے تو گیا مگر اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں خدا اور رسول ہی سمجھ سکتے ہیں۔یہ مثال تو ایسی ہے کہ جبرائیل جو کچھ لے گیا اسے وہ سمجھ نہ سکتا تھا۔اس کے علاوہ وہ حصہ جو جبرائیل سمجھ سکتا تھا اس میں بھی رسول کریم ﷺ اس سے بڑھے ہوئے صلى الله تھے۔اس کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔دو آدمی بخار میں مبتلا ہوں اور دونوں کو کو نین دی جائے تو بسا اوقات ایک کو تو جھٹ اثر ہو جائے گا اور ایک کو دیر میں ہوگا۔ایسا کیوں ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ یہ فرق ان دونوں کی ذاتی قوتوں کی وجہ سے پڑے گا۔جس کے جسم میں ایسے مادے ہوں گے کہ جو کونین پر غالب آجائیں اس پر کم اور دیر سے ہوگا اور جس کا جسم صاف ہوگا اس پر فوراً اثر ہوگا اور بخار اتر جائے گا۔یہ مثال تو دفع شر کی قوتوں کے اختلاف کی ہے۔جلب خیر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔دو آدمی ایک ہی خوراک کھاتے ہیں ایک بہت موٹا اور مضبوط ہو جاتا ہے اور دوسرا اس قدر فائدہ نہیں اٹھاتا۔گو بسا اوقات وہ پہلے سے غذا، مقدار میں بھی زیادہ کھا لیتا ہے۔اسی طرح وہ تعلیم جس کو دونوں یعنی جبرائیل اور رسول کریم ﷺ سمجھتے