سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 69

سيرة النبي عمال 69 جلد 2 ان کو دیکھ کر سلام کہتے ہیں۔ان سے بڑا کون سا انسان ہے جسے سلام کہنے کی ضرورت نہ ہو مگر بہت لوگ ہیں خصوصاً انگریزی تعلیم یافتہ جو سلام کو بہت حقیر چیز سمجھتے ہیں۔وہ صلى الله اپنے عمل سے رسول کریم ہے ، جبریل حتی کہ خدا تعالیٰ سے بھی اپنے آپ کو بڑا قرار 6 دیتے ہیں کیونکہ جس حکم کو بہت سی حکمتوں کے ماتحت خدا تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے صلى الله بلکہ اپنی ذات کے لئے بھی رکھا ہے اور جس کی تاکید رسول کریم ﷺ نے کی ہے اور خود جبریل کو کہا ہے اس سے یہ لوگ اپنے آپ کو مستغنی سمجھتے ہیں۔اول تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیتے ہیں یا اتنا بھی نہیں کرتے۔یا ایک دوسرے سے یوں ملیں گے مولوی صاحب اور اس کے جواب میں کہہ دیا جائے گا بھائی صاحب۔یا یہ کہ سناؤ جی کیا حال ہے؟ اسی قسم کے فقروں کو انہوں نے سلام سمجھ لیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ تین انگلیاں ملا دیں گے اور یہ مصافحہ ہو جائے گا لیکن شریعت کا یہ حکم نہیں۔شریعت نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہنا ضروری قرار دیا ہے اور رسول کریم ﷺ نے اس کو اتفاق واتحاد کی جڑ ٹھہرایا ہے اور نجات کا ستون بنایا ہے۔رسول کریم ﷺ سے ایک صلى الله صلى الله دفعہ دریافت کیا گیا کہ بہتر اسلام کیا ہے؟ تو آپ نے خاص حکموں میں سے بتایا کہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا اور کسی کو جانو یا نہ جانو سلام کہنا 3۔یہ دونوں باتیں اتفاق و اتحاد کی جڑ ہیں۔آج میں خطبہ کو یہیں بند کرتا ہوں کیونکہ وقت زیادہ ہو چکا ہے مگر تا کید کرتا ہوں کہ یہ ایک خاص حکم ہے جو اسلام نے دیا ہے اور جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔صحابہ اس کے اس قدر پابند تھے کہ ایک دن عبد اللہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا آؤ بازار چلیں۔صحابی نے سمجھا کوئی کام ہوگا چل پڑا لیکن وہ بازار میں سے گھوم کر یونہی چلے آئے ، نہ کوئی کام کیا اور نہ کوئی چیز خریدی۔دو تین دن کے بعد پھر آئے اور کہا آؤ بازار چلیں۔اس صحابی نے کہا اُس دن آپ نے نہ کچھ خریدا اور نہ کام کیا آج کوئی کام ہے؟ انہوں نے کہا میں بازار اس لئے جاتا ہوں کہ بھائی