سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 68

سيرة النبي الله 68 جلد 2 السلام علیکم کی اہمیت رسول کریم عمل اللہ کے ارشادات کی روشنی میں حضرت مصلح موعود یکم اکتوبر 1920ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔اسلام نے تاکید کی ہے اور قرآن میں بھی آیا ہے فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُبْرَكَةً طَيِّبَةً 1 کہ جب گھروں میں داخل ہو تو سلام کرو۔اس میں خوبی یہ ہے کہ یہ نہیں فرما یا فَسَلِّمُوا عَلَى اِخْوَانِكُمْ بلکہ یہ فرما یا عَلَى اَنْفُسِكُمُ کہ اس کا فائدہ تمہارے اپنے ہی نفسوں پر ہوگا۔یہ ایک ایسا حکم ہے کہ رسول کریم ﷺ کے ارشاد کے ماتحت ہر مسلمان کو دوسرے - الله مسلمان سے ملتے وقت بجا لانا چاہئے۔چونکہ اس کا موقع ہر وقت ملتا رہتا ہے اس لئے عام طور پر لوگ اسے معمولی سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ ایسا ضروری ہے کہ رسول کریم علی نے فرمایا ہے یہ جنت میں جانے کا ذریعہ ہے اور فرمایا ہے مسلمانوں کے اتفاق واتحاد کی بنیاد اسی پر قائم ہے۔چنانچہ فرمایا آپس میں سلام کرو، سلام سے محبت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے ذریعہ ہی جنت میں داخل ہونا ہے 2۔“ (الفضل 7اکتوبر 1920ء) اسی خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔”سب سے پہلی چیز جو بندہ کو خدا تعالیٰ کی ملاقات کے وقت دی جاتی ہے وہ یہی سلام ہے۔جبریل رسول کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ کو سلام کہا اور رسول کریم علی 66