سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 61

سيرة النبي الله 61 جلد 2 صلى الله ہمارے پیشوا خاتم الانبیاء ﷺ کا اسوہ حسنہ حضرت مصلح موعود نے 12 اپریل 1920 ء کو سیالکوٹ کی مستورات سے پنجابی زبان میں خطاب فرمایا۔16 اپریل 1920 ء کے الفضل میں اس کا اردو ترجمہ شائع صلى الله ہوا۔اس خطاب میں رسول کریم ﷺ کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔”دیکھو! جب محمد رسول اللہ ﷺ آئے اور آکر کہا کہ خدا ایک ہے اور کوئی اس کا صلى الله شریک نہیں ہے اُس وقت ان کے سارے رشتہ دار بتوں کے آگے سجدے کرتے اور ان کو خدا تعالیٰ کا شریک سمجھتے تھے۔اکثر عورتوں کو معلوم ہوگا کہ مجاوروں کا گزارہ لوگوں کی منتوں پر ہی ہوتا ہے۔احمدیت سے پہلے تم میں سے کئی عورتیں خانقاہوں پر جاتی ہوں گی یا جن کو احمدیت کی تعلیم سے ناواقفیت ہے اور جو اپنے مذہب میں کمزور ہیں ممکن ہے وہ اب بھی جاتی ہوں۔انہوں نے دیکھا ہوگا کہ مجاوروں کی آمدنی انہی لوگوں کے ذریعہ ہوتی ہے جو وہاں جاتے ہیں۔تو مکہ والے بتوں کے مجاور تھے انہوں نے کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے جن پر لوگ دور دور سے آکر نذریں چڑھاتے تھے جنہیں وہ آپس میں بانٹ لیتے تھے۔یا لوگ بتوں کی پرستش کے لئے وہاں جمع ہوتے اور وہ تجارت کے ذریعہ ان سے فائدہ اٹھاتے تھے اس لئے بتوں کو چھوڑ دینے سے وہ سمجھتے تھے کہ ہم بھو کے مر جائیں گے۔رسول کریم ﷺ کے سارے رشتہ دار ایسے ہی تھے جن کا گزارہ بتوں پر تھا۔مگر رسول کریم ﷺ جب کھڑے ہوئے تو آپ نے کسی رشتہ دار کی پرواہ نہ کی اور بڑے زور کے ساتھ کہہ دیا کہ صرف خدا ہی ایک معبود ہے باقی سب معبود جھوٹے ہیں۔یہ بات آپ کے رشتہ داروں کو بہت بری لگی اور انہوں