سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 62
سيرة النبي ع 62 جلد 2 صلى۔نے آپ کو تکلیفیں دینا شروع کر دیں۔ایک دن رسول کریم ﷺ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے اور لوگوں کو بلایا۔جب لوگ آگئے تو کہا تم جانتے ہو میں جھوٹ بولنے والا نہیں۔انہوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑا لشکر موجود ہے جو مکہ کو تباہ کرنا چاہتا ہے تو تم مان لو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم مان لیں گے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا تو میں تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا عذاب تم پر آنے والا ہے تم اس سے بچ جاؤ اور شرک کر کے خدا تعالیٰ کے عذاب کے مستوجب نہ بنو۔یہ بات سن کر وہ گالیاں دیتے چلے گئے اور کہنے لگے یہ تو سودائی ہو گیا ہے 1۔رسول کریم علیہ نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی اور پہلے کی طرح ان کو شرک سے روکتے رہے۔اس پر لوگ جمع ہو کر رسول کریم ﷺ کے چچا کے پاس گئے اور جا کر کہا اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ یہ ہمارے بتوں کی مذمت کرتا ہے ، باز آ جائے۔رسول کریم ﷺ کے چچا نے لوگوں سے کہہ دیا کہ جو بات وہ سچے دل اور پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے اسے وہ کس طرح چھوڑ سکتا ہے۔آخر بڑے بڑے لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ کچھ لوگ رسول کریم ﷺ کے پاس جائیں اور جا کر کہیں کہ جو کچھ تم کہو گے ہم مان لیں گے لیکن تم بتوں کے خلاف کہنا چھوڑ دو۔چنانچہ لوگ گئے اور جا کر کہا کہ ہم قوم کی طرف سے آئے ہیں اور تم بہت اچھے آدمی ہو ہم نہیں سمجھتے تم قوم کو تباہ ہونے دو گے ہم تمہارے پاس ایک پیغام لائے ہیں اس کو قبول کرو تا کہ تفرقہ نہ پڑے اور ہماری قوم تباہ نہ ہو۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا سناؤ کیا پیغام لائے ہو۔انہوں نے کہا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تمہیں مال کی ضرورت ہو تو ہم تمہیں مال جمع کر کے دے دیں۔اور اگر تم کسی اعلیٰ گھرانے میں رشتہ کرنا چاہتے ہو تو امیر سے امیر گھرانہ کی اچھی سے اچھی عورت سے رشتہ کر دیتے ہیں اور اگر یہ چاہتے ہو کہ لوگ تمہاری باتیں مانیں تو ہم لکھ دیتے ہیں کہ جس طرح سے تم کہو گے اسی طرح ہم کریں گے۔اگر تم بادشاہ بننا چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں 2 مگر تم یہ نہ کہو کہ ایک ہی خدا ہے الله