سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 53

سيرة النبي عالي 53 صداقت ظاہر کر دے گا۔یہ تو زمانہ حال اور مستقبل کے متعلق ہوا۔جلد 2 اور زمانہ ماضی کے متعلق فرماتا ہے وَمِنْ قَبْلِهِ كِتُبُ زمانہ ماضی کی شہادت موسی۔اس سے پہلے زمانہ کے متعلق موسی کی کتاب شہادت دے رہی ہے۔اس میں شہادت موجود ہے کہ بنی اسمعیل سے ایک ایسا نبی کھڑا ہوگا کہ جو اس کا انکار کرے گا اسے سزا دی جائے گی 2۔صداقت کے عقلی اور نقلی ثبوت پس یہ ہیں رسول کریم ﷺ کی صداقت کے ثبوت۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو کہتے ہیں عقلی ثبوت پیش کئے جائیں۔ان کے لئے فرماتا ہے کہ اس کے ساتھ نشان ہیں اور یہ بینات اپنے ساتھ رکھتا ہے ان کو دیکھ کر اس کی صداقت کو تسلیم کرو۔دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ نفلی طور پر صداقت کا ثبوت دو۔ان کو فرماتا ہے تمہاری کتابوں میں موجود ہے کہ آئندہ ایک نبی آئے گا اور وہ یہی ہے۔پھر آئندہ آنے والے لوگ تھے ان کے متعلق فرمایا جب دنیا خدا کو چھوڑ کر گمراہی میں مبتلا ہو جائے گی اور اس رسول کا انکار کرے گی اُس وقت ایسا انسان آئے گا جو نشان دکھلائے گا اور ان نشانوں سے اس رسول محمد علیہ کی صداقت ثابت کر دے گا۔موجودہ زمانہ میں رسول کریم ﷺ کا انکار اب ہمیں موجودہ زمانہ کو دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں رسول کریم ﷺ کا انکار کیا جا رہا ہے؟ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے زمانہ میں ایک انسان آئے گا مگر وہ خود نہیں کھڑا ہوگا بلکہ خدا تعالیٰ اس کو الله کھڑا کرے گا ورنہ یوں تو ہر ایک کہہ سکتا ہے کہ میں رسول کریم ﷺ کی صداقت ثابت کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔یہ صاف بات ہے کہ کسی امر کے متعلق گواہ کی اسی وقت ضرورت ہوتی ہے جب اس کا انکار کیا جاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ