سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 51
سيرة النبي ع 51 جلد 2 تو ان کا رد کرنا بھی بہت بڑی ہلاکت اور خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کانے والی بات ہے۔صلى الله رسول کریم ﷺ کی صداقت کے نشانہ پھر جب رسول کریم ﷺ کا انکار بہت بڑی لعنت اور خدا تعالیٰ سے دوری کا باعث ہے ( ہمارے ملک میں لعنت گالی سمجھی جاتی ہے لیکن عربی میں دور ہو جانے کو کہتے ہیں ) تو اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی صداقت ثابت کرنے کے لئے بڑے بڑے نشان بھی رکھے ہوں تا کہ ان کے ذریعہ لوگ آپ کو پہچان سکیں۔ورنہ اگر ایسا نہ ہو تو قیامت کے دن لوگ کہہ سکتے ہیں کہ جب ان کا اتنا بڑا دعوی تھا اس کے لئے دلائل اور نشان بھی بڑے بڑے ہونے چاہئیں تھے۔لیکن چونکہ ایسا نہ تھا اس لئے ہم ان کے نہ ماننے کی وجہ سے کسی الزام کے نیچے نہیں ہیں تو عقل سلیم تسلیم کرے گی اور ہر مسلمان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ کی صداقت کے ثبوت پہلے انبیاء سے بڑے ہونے چاہئیں کیونکہ آپ کی آمد تمام دنیا کے لیے رحمت تھی اور آپ کا دعویٰ سب انبیاء سے بڑھ کر تھا۔الله قرآن کریم میں صداقت اس بات کو مدنظر رکھ کر قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ اس نے رسول کریم علی رسول کریم ﷺ کے نشان کی صداقت کے کیا ثبوت دیئے ہیں۔الله اللہ تعالیٰ قرآن میں رسول کریم ﷺ کی صداقت کے متعلق فرماتا ہے اَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتَبُ مُوسَى إِمَامًا وَ رَحْمَةً أوليك يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ يَكْفُرُ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَاتَكَ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبَّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ 1 فرماتا ہے اس نبی کا انکار کوئی معمولی بات نہیں۔کسی مذہب کا انسان ہو اس کا فرض