سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 50

سيرة النبي الله 50 جلد 2 کے مطابق کھانا تیار کیا جاتا ہے اور جتنا لمبا قد ہوتا ہے اسی کے مطابق لباس تیار کیا جاتا ہے۔ایک ہوشیار اور سمجھدار درزی طویل القامت انسان کے لئے ایک چھوٹے بچہ کے قد کے مطابق لباس تیار نہیں کرتا۔ایک قابل اور عظمند ڈاکٹر کسی خطر ناک بیماری کے لئے بے تو جہی سے نسخہ نہیں لکھتا نہ اتنی مقدار میں دوائی تجویز کرتا ہے جس سے مریض کو کچھ فائدہ نہ ہو بلکہ کافی مقدار میں تجویز کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی عظمت کی وجہ پس جبکہ دنیا کے تمام کے تمام مؤرخ اور سب سمجھدار لوگ خواہ وہ کسی مذہب اور کسی ملت سے تعلق رکھتے ہوں تسلیم کرتے ہیں اور اس زمانہ کی تاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ اُس زمانہ میں سب سے زیادہ تاریکی اور ظلمت پھیلی ہوئی تھی ، سب لوگ اپنے اپنے مذہب کو چھوڑ چکے تھے، ان کے اخلاق و عادات بگڑ چکی تھیں تو ایسے خطر ناک زمانہ میں ضروری تھا کہ دنیا کی اصلاح کے لئے وہی انسان آتا جو سب سے زیادہ نیکی اور تقویٰ، پاکیزگی اور طہارت میں بڑھا ہوا ہوتا۔کیونکہ جب ایک معمولی درزی لمبے قد کے لئے چھوٹا کپڑا نہیں سیتا ، ایک معمولی طبیب خطر ناک بیماری کا معمولی علاج تجویز نہیں کرتا تو وہ خدا جو علیم ہے اور ہر ایک بات کو جانتا ہے وہ کس طرح دنیا کی ایسی خطرناک حالت کو معمولی سمجھتا اور کسی معمولی انسان کو بھیج دیتا۔پس جبکہ یہ اقرار کر لیا گیا کہ اس زمانہ میں مرض حد سے بڑھا ہوا تھا تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اُس وقت اصلاح کے لئے جو رسول آیا وہ بھی سب سے بڑا تھا۔رسول کریم اللہ کا انکار اور پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ جتنا وہ رسول بڑا تھا اتنا ہی اس کا انکار بڑا اور خطرناک ہے۔کس قدر خطر ناک ہے کیونکہ کوئی نعمت جتنی بڑی ہوتی ہے اس کے پھینکنے اور قدر نہ کرنے والا اتنا ہی زیادہ الزام کے نیچے ہوتا ہے۔پس جبکہ محمد علی سب سے بڑی نعمت اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سب سے بڑے انسان ہیں مخلوق