سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 49
سيرة النبي الله 49 جلد 2 صلى الله سیرت نبوی ﷺ کی چند جھلکیاں حضرت مصلح موعود نے 10 اپریل 1920 ء کو سیالکوٹ کے ایک پبلک جلسہ میں تقریر فرمائی جس میں سیرت نبوی ﷺ پر حسب ذیل انداز میں روشنی ڈالی۔فرمایا:۔”رسول کریم عمل ہے جن کی طرف تمام مسلمان کہلانے والے لوگ خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں وہ آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ اُس زمانہ کی نسبت آپ کے دوست و دشمن سب اقرار کرتے ہیں کہ اُس سے بڑھ کر تاریک زمانہ تاریخ میں نہیں پایا جاتا۔وہ زمانہ تاریکی اور جہالت، بے دینی اور خدا تعالیٰ سے دوری کے لحاظ سے تمام گزشتہ زمانوں سے بڑھا ہوا تھا۔ہر مذہب اور ہر ملت میں ایسا اختلال اور کمزوری واقع ہوگئی تھی کہ علاوہ اس بات کے کہ کون سا مذہب سچا ہے اور کون سا جھوٹا اخلاقی طور پر ہر ایک مذہب کے مدعی ایسے گر گئے تھے کہ کوئی مذہب اپنے پیروؤں پر فخر نہیں کر سکتا تھا۔اس زمانہ میں دنیا کی درستی اور اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ نے رسول کریم مبعوث فرمایا۔رسول کریم ع کی عظم جس طرح وہ زمانہ سب سے زیادہ تاریک، علي سب سے زیادہ جہالت اور سب سے زیادہ صلى الله خدا تعالیٰ سے دوری کا زمانہ تھا اسی طرح اُس زمانہ میں رسول کریم ﷺ کو خدا تعالیٰ نے سب انبیاء سے بڑا بنایا اور سب سے زیادہ چمکتا ہوا نو ر اور روشنی آپ کو دی کیونکہ جتنی بڑی مرض ہوتی ہے اتنا ہی بڑا اس کا علاج کیا جاتا ہے۔جتنی بھوک ہوتی ہے اسی