سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 47
سيرة النبي عالم 47 جلد 2 دیکھنا یہ ہے کہ اس کی کوئی قدرت ظاہر کس طرح ہوتی ہے۔اس کی قدرت یہ ہے کہ محمد ﷺ کی افضلیت ظاہر کرے۔پھر اس کے خلاف کس طرح ہوسکتا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت بھی حضرت عیسی کو اس طرح سنبھال کر رکھنے کے خلاف ہے۔دیکھو! ایک غریب آدمی اپنے کپڑوں کو خواہ وہ کتنے پرانے ہوں سنبھال کر رکھتا ہے تا کہ پھر کام آئیں لیکن امیر اپنے پرانے کپڑے اوروں کو دے دیتا ہے۔اسی طرح غریب انسان ایک دفعہ کا پکا ہوا کھانا سنبھال کر رکھتا ہے کہ پھر کھا لوں گا لیکن امیر ایسا نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جب بھوک لگے گی اُس وقت پھر تازہ پکوالوں گا۔اب حضرت عیسی کو سنبھال کر رکھنے کا یہ مطلب ہوا کہ خدا سے اتفاقاً حضرت عیسی ایک بہت اعلیٰ درجہ کے نبی بن گئے تھے اور پھر وہ کوئی ایسا نبی نہیں بنا سکتا تھا اس لئے ان کو سنبھال کر زندہ آسمان پر رکھ دیا کہ جب دنیا میں فتنہ و فساد پھیلے گا تو ان کو بھیج دوں گا۔پہلے تو میں نے بتایا ہے کہ حضرت عیسی کو زندہ ماننے میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے۔اب اس سے ظاہر ہے کہ ان کو زندہ ماننے والے خدا تعالیٰ کی ہتک تک بھی پہنچ گئے۔کسی نے کہا ہے :۔زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا اس طرح حضرت عیسی کو زندہ مان کر خدا تعالیٰ پر حملہ کر دیا گیا۔ہم کہتے ہیں کیا وہ خدا جس نے حضرت عیسی کے بعد محمد یا ہے جیسا عظیم الشان نبی پیدا کیا وہ پھر حضرت عیسی جیسا نبی نہیں پیدا کر سکتا تھا ؟ ضرور کر سکتا تھا۔پس اس کو ضرورت نہ تھی کہ حضرت عیسی کو زندہ رکھ کر اپنی قدرت پر حرف آنے دیتا۔غرض حضرت عیسی کی حیات کا حیات مسیح کے عقیدہ کی بنیاد کب پڑی عقیدہ نہ صرف اسلام اور رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنے والا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ہتک کرنے والا ہے۔اور اس کی بنیاد اس وقت پڑی جبکہ مسلمانوں میں عیسائی شامل ہونے لگے۔ان کی وجہ