سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 44
سيرة النبي الله 44 جلد 2 افضلیت ہے یا ان کی زندگی میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ نے ان کے دشمنوں سے بچانے کے لئے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور وہ اس وقت تک زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ نے 63 سال کی عمر میں وفات دے دی اور آپ اسی زمین میں مدفون ہیں۔آپ کو اپنی زندگی میں کئی تکلیفیں پیش آئیں۔مکہ سے آپ کو نکلنا پڑا۔لڑائیوں میں آپ کو زخم لگے۔دشمنوں نے آپ کو تنگ کیا۔لیکن اس ساری زندگی میں خدا تعالیٰ نے انہیں آسمان چھوڑ پہاڑ پر بھی نہ اٹھایا۔حضرت عیسی پر تو جب ایک مشکل وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا لیکن محمد ﷺ پر دکھ پر دکھ آئے ، مصیبتوں پر مصیبتیں پڑیں مگر خدا تعالیٰ نے انہیں اسی زمین میں رکھا آسمان پر نہ اٹھایا۔اس کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ محمد نے کی تو یہ حالت ہے کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ رات اور دن خدا تعالیٰ کی اطاعت کے سوا انہیں کوئی کام ہی نہیں اور خدا تعالیٰ کے سوا انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔حتی کہ عیسائی بھی کہتے ہیں کہ محمد (ﷺ) کو اور تو خواہ کچھ کہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اٹھتا بیٹھتا، کھاتا پیتا، سوتا جاگتا ، صبح و شام، شادی غمی حتی کہ میاں بیوی کے تعلقات میں، کپڑے پہنتے وقت ، پاخانہ پھرتے وقت غرض کہ ہر گھڑی اور ہر لحظہ میں خدا کا ہی نام لیتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا کے متعلق اسے جنون تھا۔تو وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی محبت میں اتنا بڑھ گیا تھا کہ ایک عیسائی کہتا ہے کہ خدا کا اس کو جنون ہو گیا تھا اس کی تو خدا تعالی مشکلات اور تکالیف میں اس طرح مدد نہیں کرتا کہ آسمان پر اٹھائے لیکن حضرت عیسی کو جب ذرا تکلیف آتی ہے تو خدا انہیں آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔پھر محمد کو تو دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لئے راتوں رات مکہ سے جانا اور ایک غار میں چھپنا پڑتا ہے مگر حضرت عیسی کے لئے خدا تعالیٰ مکان کی چھت پھاڑ کر انہیں آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔اب بتاؤ ان دونوں میں سے خدا تعالیٰ کا زیادہ پیارا اور عروسة