سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 37
سيرة النبي علي 37 جلد 2 الله دیوانہ وار باہر نکلے۔لڑائی سے واپس آنے والے لوگ آگے آگے جا رہے تھے ان میں سے ایک عورت بے تحاشا آ کر پوچھتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس الله کے دل میں چونکہ رسول کریم عملے کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا۔عورت نے کہا میں نے پوچھا ہے کہ رسول اللہ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تمہارا بھائی مارا گیا۔عورت نے کہا میں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔عورت صلى الله صلى الله صلى الله صلى الله صلى الله نے کہا میری بات کا تم کیوں جواب نہیں دیتے ، میں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہ کے کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں۔یہ سن کر اس عورت نے کہا شکر صلى الله ہے خدا کا۔اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں تو ہمیں اور کسی کی پرواہ نہیں 10۔اس بات کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس نے عورتوں کا جزع فزع دیکھا ہو کہ اگر کسی عورت کا ایک دن کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو کس قدر روتی ہے۔مگر اس عورت کا سارے کا سارا خاندان کہ جس پر اس کا آسرا تھا مارا جاتا ہے وہ کہتی ہے کہ اگر رسول الله ﷺ زندہ ہیں تو کوئی حرج نہیں۔یہ رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ تھی جس نے مردوں اور عورتوں میں ایسا اخلاص بھر دیا اور یہ آپ کے سب سے افضل ہونے کا ثبوت ہے جو اور کوئی قوم اپنے نبی کے متعلق پیش نہیں کر سکتی۔پس ثابت ہو گیا که محمد اللہ ہی سب انبیاء سے افضل ہیں اور آپ کا درجہ ہر بات میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے جو جماعت تیار کی اس کے مردوں،عورتوں حتی کہ بچوں میں ایسا اخلاص اور محبت پائی جاتی ہے جس کا نمونہ اور کہیں نہیں مل سکتا۔دومسلم بچوں کی بہادری بدر کی لڑائی میں دو پندرہ پندرہ برس کے لڑکوں صلى الله نے بڑی کوشش سے رسول کریم ﷺ سے لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت حاصل کی۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ لڑائی کے وقت یہ دونوں لڑکے میرے دائیں بائیں کھڑے تھے اور میں یہ خیال کر رہا تھا کہ آج میں کس