سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 36
سيرة النبي ع 36 جلد 2 جنہوں نے باوجود باہر جا کر نہ لڑنے کا معاہدہ کیا ہوا تھا یہ کہا کہ اگر دشمن آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند کر ہی پہنچے گا۔جیتے جی ہم اسے آپ تک نہ آنے دیں گے۔کوئی کہہ سکتا ہے جوش میں آکر لوگ اس طرح کہہ ہی دیا کرتے ہیں لیکن جب مصیبت آپڑتی ہے تب یہ جوش قائم نہیں رہتا مگر انہوں نے یہ زبان سے ہی نہ کہا بلکہ لڑائی میں بھی گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دعوی کو سچا کرنے کے لئے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ رسول کریم ہے دشمن کے نرغے میں گھر گئے اور ایسے خطرناک طور پر صلى الله گھر گئے کہ عام خبر مشہور ہوگئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک انصاری حضرت عمرؓ سے جنہوں نے سر نیچے ڈالا ہوا تھا آکر پوچھتے ہیں کیا ہوا؟ وہ کہتے ہیں رسول کریم ﷺ شہید ہو گئے۔یہ سن کر وہ انصاری کہتے ہیں کہ اگر محمد ہے اس دنیا سے چلے گئے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے کا کیا فائدہ۔چلو! ہم بھی چلیں اور لڑ کر مر جائیں۔یہ کہہ کر وہ گئے اور لڑ کر مارے گئے اور اس سختی سے لڑے کہ جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پرستر زخم لگے ہوئے تھے 9۔پھر اور اخلاص کا نمونہ دیکھئے جب دشمن تیر پر تیر رسول کریم ے کو مار رہا تھا تو چند صحابہ آپ کے ارد گرد کھڑے ہو گئے جن کی پیٹھیں تیروں سے چھلنی ہو گئیں۔کسی نے ایک صحافی سے پوچھا جب تم پر تیر پڑتا تھا تو کیا تم اف بھی نہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا میں اُف اس لئے نہ کرتا تھا کہ کہیں میرا جسم نہ ہل جائے صلى اور تیر رسول کریم ﷺ پر جا پڑے۔۔اخلاص مستورات مؤمنین یہ تو لڑنے والوں کا حال تھا جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ مرد بہادر ہوا ہی کرتے ہیں مگر یہ اخلاص مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتوں میں بھی ایسا ہی پایا جاتا تھا۔یہی لڑائی جس میں مشہور ہوا کہ رسول کریم ہے شہید ہو گئے جب ختم ہوئی اور لوگ مدینہ کو واپس لوٹے تو ادھر مدینہ کے بچے اور عورتیں رسول کریم ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر