سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 485

سيرة النبي عمال 485 جلد 2 ہوتا ہے۔ایک عارضی اور وقتی جھگڑا ہوتا ہے وہ اس میں شامل نہیں ہے۔وہ تو خدا تعالیٰ کے نبیوں میں بھی ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت موسی اور حضرت ہارون میں ہو گیا تھا۔یہاں وہ لڑائی جھگڑا مراد ہے جس سے دلوں میں بغض اور کینہ پیدا ہو جائے۔اختلاف طبائع اور بات ہوتی ہے یہ تو میاں بیوی، باپ بیٹے میں بھی پیدا ہو جاتا ہے مگر ایک سیکنڈ بھی نہیں گزرتا کہ آپس میں محبت کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔پس اسے لڑائی جھگڑا نہیں کہا جا سکتا ایسا جھگڑا تو بندہ اور خدا تعالیٰ میں بھی ہو جاتا ہے۔اصل لڑائی جھگڑا یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے متعلق بغض و کینہ پیدا ہو جائے اور ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہ ہو۔ایک دوسرے سے ملنا نہ چاہے۔ایسی حالت میں ایک دوسرے کی نیکیاں بھی برائیاں معلوم ہونے لگتی ہیں۔اگر ایک شخص چندہ دیتا ہے تو دوسرا سمجھتا ہے ریا کاری سے دے رہا ہے۔اگر نمازیں پڑھتا ہے تو کہتا ہے محض دکھاوے کی نمازیں پڑھتا ہے۔غرض ہر بات میں عیب گیری کرنا اور دل میں بغض و کینہ رکھنا یہ لڑائی ہے جو مومن نہیں کرتا کیونکہ مومن کا دل بغض اور کینہ کا حامل کبھی نہیں ہو سکتا۔جب کسی کے دل میں کسی سے بغض پیدا ہو تو وہ خیال کرے کہ ضرور اس کے ایمان میں نقص آ گیا ہے کیونکہ ناممکن ہے کہ بغض اور ایمان ایک جگہ جمع ہوں۔یہ خطبہ ہے جس میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے دن چونکہ لوگ جمع ہوتے ہیں اور اس بات کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ ہم اکٹھے ہیں اور ایک ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک ہونے کے لئے یہ باتیں پائی جانی چاہئیں۔اگر یہ نہیں پائی جاتیں تو تم اکٹھے نہیں اور نہ ایک ہو تمہارا اکٹھا ہونا منافقت ہے۔وہ لوگ جو اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق بغض رکھتے اور ساری جماعت پر اتہام لگاتے ہیں وہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔میں یہ برداشت کر ہی نہیں سکتا کہ کوئی جماعت پر الزام لگائے۔میری عادت نہیں کہ مجلس میں کسی فرد کو مخاطب کر کے غصہ کا اظہار کروں مگر جب کوئی جماعت پر الزام لگاتا ہے تو پھر میں برداشت نہیں کر