سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 484
سيرة النبي الله 484 جلد 2 شخص سب سے پہلے سامنے نظر آئے اس سے فیصلہ کرایا جائے اور رسول کریم ﷺ نظر آئے۔آپ کو دیکھ کر سب امین امین پکار اٹھے کیونکہ اس نام سے آپ کو بعثت سے قبل پکارا جاتا تھا۔آپ کے سامنے جب اس معاملہ کو رکھا گیا تو آپ نے فرمایا یہ معمولی بات ہے۔آپ نے چادر منگائی اور پتھر کو اس پر رکھ دیا اور پھر فرمایا سب قوموں کے لوگ چادر کے کنارے پکڑ لیں 2۔تو وہ آدمی جو اپنے اندر یہ پانچ ایمانی اور چھ عملی حالتیں پیدا کر لیتا ہے وہ جہاں جاتا ہے لڑائی جھگڑے مٹاتا ہے۔لڑائی وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ حالتیں پیدا نہیں ہوتیں۔وجہ یہ کہ لڑنے اور فساد کرنے والا اخلاق یا ایمان میں کمزور ہوتا ہے تبھی اس سے ایسی باتیں سرزد ہوتی ہیں۔یہ وہ خطبہ ہے جو ہر جمعہ میں پڑھا جاتا ہے اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ جتنا اجتماع زیادہ ہو اسی قدر لڑائی جھگڑے کے سامان زیادہ جمع ہو جاتے ہیں اس لئے ان فسادات سے بچنے کے جو ذرائع ہیں وہ بھی استعمال کرنے ہئیں۔دیکھو! جس آدمی کے گھر ایک شخص کھانا کھانے والا ہوتا ہے وہ ایک کے کھانے کا انتظام کرتا ہے۔جس کے گھر دس آدمی ہوں وہ دس کے کھانے کی فکر رکھتا ہے۔اسی طرح جب تھوڑا اجتماع ہو تو اتنی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی زیادہ اجتماع کے وقت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے جب تم اجتماع میں جاؤ تو سب سے پہلے اپنے نفس کو دیکھو کہ اس میں تو کوئی نقص نہیں۔تم اپنے اندر حمد، استعانت، استغفار، ایمان اور توکل پیدا کرنے کی کوشش کرو۔پھر عدل، احسان اور ایتَاءِ ذِى الْقُرْبَى پر عمل کرو اور فحشاء، منکر اور بغی سے بچو۔جب ایسا کرو گے تو کبھی فساد پیدا نہیں ہوگا کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔جب لوگ ان باتوں پر عمل کریں گے تو دین میں مضبوط ہوں گے اور لڑائی جھگڑا نہیں کریں گے۔لڑائی فساد کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ایمان میں کمزوری ہوتی ہے جس کا اظہار لڑائی جھگڑے کی صورت میں