سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 483
سيرة النبي ع 483 جلد 2 نہیں کر سکتا اور جن کو یہ باتیں نصیب نہ ہوں وہ ہدایت نہیں پا سکتے۔یہی مطلب ہے مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلا هَادِيَ لَهُ کا۔بات یہ ہے کہ جن کو یہ معلوم نہیں کہ تمام عیبوں سے پاک خدا تعالیٰ ہی کی ذات ہے وہ دوسروں کی عیب چینی سے کس طرح باز رہ سکتے ہیں۔یا جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ حقیقی مدد خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے مل سکتی ہے وہ شرک سے کس طرح بچ سکتے ہیں۔یا جن کو اپنے گناہوں کا پتہ نہ ہو وہ استغفار کس طرح کر سکتے ہیں۔یا جن کو یہ پتہ نہ ہو کہ ایمان خدا تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ لایا جا سکتا ہے وہ کس طرح وحی کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔یا جن کو یہ معلوم نہ ہو کہ تو کل خدا ہی کی ذات پر کیا جا سکتا ہے وہ کس طرح حقیقی تو کل کو سمجھ سکتے ہیں۔یہ امور بیان کرنے کے بعد وہ ہدایت جو رسول کریم ﷺ نے اپنے الفاظ میں بیان کی تھی ایک آیت کے ذریعہ اسے بیان کیا ہے۔پہلے تو یہ بتایا تھا کہ جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔پھر بتایا جب یہ پانچ باتیں کسی میں پیدا ہو جائیں تو اجتماع میں وہ جھگڑے فساد سے بچ جاتا ہے۔اب عملی حالت کے متعلق بتایا ہے کہ انسان کو چاہیئے عدل و احسان اور ایتاء ذِي الْقُرُبی کی عادت ڈالے اور اس کے ساتھ فحشاء، منکر اور بغی سے رکے۔یعنی ایسی باتیں جو اپنی ذات میں عیب ہوں یا ایسی باتیں جو لوگوں کو بھی عیب نظر آئیں یا ایسی باتیں جن میں لوگوں کے حقوق تلف ہوتے ہوں ان سے رکے۔غرض جس انسان کے اندر یہ پانچ ایمانی اور چھ عملی حالتیں پیدا ہو جائیں اس سے پھر کسی قسم کا فساد سرزد نہیں ہو سکتا وہ جہاں جائے گا امن ہی قائم کرے گا۔دیکھو! صلى الله رسول کریم مے میں یہ باتیں بدرجہ اتم پائی جاتی تھیں یہی وجہ ہے کہ آپ جہاں بھی جاتے امن قائم کر دیتے۔اُس وقت جب کہ ابھی آپ پر وحی ہونی شروع نہیں ہوئی تھی اہل مکہ خانہ کعبہ تعمیر کرنے لگے اور یہ سوال پیدا ہو گیا کہ حجر اسود اٹھا کرکون قبیلہ رکھے۔چونکہ لڑا کے لوگ تھے اس وجہ سے لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔آخر یہ فیصلہ ہوا کہ جو