سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 476

سيرة النبي ع 476 جلد 2 ہوا وہ صرف روحانی تعلق کی وجہ سے اور روحانیت میں کمال حاصل کرنے کے باعث ہوا۔پس درود مسلمانوں کو یہ بتانے کے لئے ہے کہ تمہارے اندران فیوض سے بڑھ کر جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی امت پر جاری ہوئے جاری رہیں گے اور یہ دعا مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے تھی کہ تمہیں وہ کچھ ملنا ہے جو مانگنے سے بڑھ کر ہوگا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایسا ہی ہوا۔رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر عرفان کس کو ہوسکتا ہے اور آپ نے اپنی امت کے لئے کیا کیا دعائیں نہ کی ہوں گی۔مگر باوجود اس کے خدا تعالیٰ آپ کی امت الله سے یہ دعا کراتا ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے مانگنے سے بڑھ کر دیا اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جو دعائیں کیں ان سے بڑھ کر دیا جائے۔یہ کیسی جامع دعا ہے۔اس سے بڑھ کر کوئی کیا مانگ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صوفیا کہتے چلے آئے ہیں کہ روحانی ترقی کا گر درود ہے۔یہ سن کر نادان کہتے ہیں کہ محمد کے لئے رحمت اور برکت درود میں مانگی جاتی ہے اپنے لئے اس میں کیا ہے کہ اس کے ذریعہ روحانی ترقی ہو سکتی ہے۔مگر درود دراصل اپنے ہی لئے دعا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت دے کر اس دعا کی وسعت اور جامعیت کو اور زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔پس درود بہترین دعا ہے اور اس پر جتنا زور دیا جائے اتنا ہی تھوڑا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس نکتہ کو یا درکھ کر اگر کوئی درود پڑھے گا تو اسے دعاؤں میں خاص لطف اور مزا آئے گا کیونکہ اب پڑھنے والے کے لئے اس کے الفاظ کوئی چیستاں اور معمہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے لئے کھلا ہوا راستہ ہے۔غور وفکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ خدا اور رسول کی طرف سے جتنی باتیں سکھائی گئی ہیں ان میں بڑی حکمتیں ہیں۔انسان اپنی نادانی سے انہیں قابل اعتراض