سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 475
سيرة النبي عمال 475 جلد 2 سکتے تھے کہ جو کچھ پہلی امتوں کو ملا اس سے بڑھ کر انہیں دیا جائے۔میرے نزدیک درود کے ذریعہ دعا سکھانے میں بہت بڑی حکمت ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو یہ دھوکا الله لگنے والا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو جو کچھ ملا وہ محمد ﷺ کی ذریت کو نہیں مل سکتا۔حضرت ابراہیم کے متعلق تو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم تمہاری ذریت میں نبوت رکھتے ہیں مگر مسلمانوں نے یہ دھوکا کھانا تھا کہ امت محمد یہ اس نعمت سے محروم کر دی گئی ہے اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی تھی اس لئے یہ دعا سکھائی گئی کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت کو ملا اس سے بڑھ کر رسول کریم ہے کی امت کو ملے اور اس میں نبوت بھی آگئی۔پس جب کوئی مسلمان درود کی دعا پڑھتا ہے تو گویا یہ کہتا ہے کہ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ کا جو وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے تھا وہ محمد ﷺ کی امت میں بھی پورا ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چونکہ جسمانی ذریت بھی تھی اور رسول کریم ﷺ کا کوئی جسمانی بیٹا نہ تھا اس لئے خیال کیا جا سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جو وعدہ کیا گیا وہ یہاں پورا نہ ہو گا اس خیال کو دور کرنے کے لئے درود کے ذریعہ یہ بتایا گیا کہ اے مسلمانو! تم ہی محمد ﷺ کی ذریت ہو تمہیں یہ انعام دیا جا سکتا ہے۔پس درود میں یہ دعا کی جاتی ہے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم کی امت کو دیا گیا اس سے بڑھ کر ہمیں دے۔اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی امت میں جو نبی آئے وہ ابراہیمی سلسلہ کے نبیوں سے بڑھ کر ہو۔ہاں ان میں یہ بھی فرق ہوگا کہ رسول کریم ﷺ کی روحانی ذریت میں نبوت رکھی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جسمانی ذریت میں۔اس میں بھی رسول کریم ﷺ کا کمال ظاہر ہوتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ اگر مومن سے کسی کو جسمانی رشتہ ہو تو اس کا بھی لحاظ رکھا جاتا ہے اس وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی نسل کو جو نبوت ملی اس میں جسمانی رشتہ کا بھی لحاظ رکھا گیا تھا مگر رسول کریم ﷺ کی امت پر جو فیض