سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 35

سيرة النبي علي 35 جلد 2 کہ دشمن کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔دشمن کے پاس تین ہزار تجربہ کا رسپاہی تھے اور مسلمانوں کے صرف ایک ہزار آدمی تھے جن میں سے اکثر لڑائی سے ناواقف تھے۔کیونکہ مدینہ کے لوگ لڑائی کرنا نہ جانتے تھے۔وہ زمینداری اور زراعت میں مصروف رہتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے کہ غلطی سے پیشوں کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے اسی طرح ان کو حقیر سمجھا جاتا تھا اور ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ کیا لڑیں گے۔یہ لوگ بھی اس ایک ہزار کی تعداد میں شامل تھے۔پھر اس میں تین سو لوگ ایسے تھے جو منافق تھے اور جن کو سب مسلمان جانتے تھے کہ ہمیں گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے مسلمان سمجھتے تھے کہ ہماری تعداد دشمن کے مقابلہ میں بہت تھوڑی ہے۔رسول کریم ﷺ نے صحابہ میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ مشورہ دو باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کریں یا اندر سے ہی؟ آخر فیصلہ ہوا کہ باہر جا کر مقابلہ کرنا چاہئے۔آپ نے بدر کے موقع پر بھی فرمایا تھا کہ ہاں مشورہ دو جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ انصار بولیں کہ ان کا کیا ارادہ ہے کیونکہ ان سے معاہدہ تھا کہ اگر باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو وہ نہ جائیں گے۔اس پر ایک انصاری اٹھا اور اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم بولیں ہم نے جب آپ کو خدا کا رسول مان لیا تو اب کیا ہے اگر آپ ہمیں کہیں گے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ڈال دیں گے 7 ہم موسی کی جماعت کی طرح نہ کہیں گے کہ جا تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔بلکہ جب تک دشمن ہماری لاشوں کو روند کر آپ تک نہیں آئے گا ہم اسے نہیں آنے دیں گے 8۔مَابِهِ الْاِمتیاز کی تین شہادت یہ تھا پھل محمد علیہ کی تعلیم کا اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اب دیکھ لوکس کے پھل اعلیٰ ہیں۔آیا موسی کے جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے یا عیسی کے جس کے خاص حواری نے ان پر لعنت کی تھی یا محمد ﷺ کے