سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 474

سيرة النبي ع 474 جلد 2 لئے ان سے بڑھ کر دعا کی اس لئے آپ کی امت کو ان کی امت سے بڑھ کر نعمت دی جائے۔اس نکتہ کو مدنظر رکھتے ہوئے درود کو دیکھو تو معلوم ہوسکتا ہے کہ کتنے عظیم الشان مدارج کے حصول کے لئے اس میں دعا سکھائی گئی ہے۔اور جب ہم درود پڑھتے ہیں تو رسول کریم عے پر احسان نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اپنے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں رسول کریم ﷺ کی امت کی ترقی کی دعا ہے۔اور اتنی جامع دعا ہے کہ اس سے بڑھ کر خیال میں بھی نہیں آ سکتی۔اس میں یہ سکھایا گیا کہ وہ رحمتیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوئیں ان سے بڑھ کر رسول کریم می کے ذریعہ نازل کی جائیں۔یعنی جس طرح ان کو مانگنے سے بڑھ کر دیا گیا اسی طرح رسول کریم ﷺ نے جو کچھ مانگا اس سے بڑھ کر دیا جائے۔چونکہ وسعت فیض کے لحاظ سے رسول کریم ﷺ کی دعائیں بڑھی ہوئی تھیں اس لئے ان سے بڑھ کر دینے کا یہ مطلب ہوا کہ آپ کی شان سب سے بڑھی ہوئی تھی۔دیکھو! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواہش کی کہ ایک بچہ ملے جو نسل چلائے مگر خدا تعالیٰ نے اس کے مقابلہ میں فرمایا میں تیری نسل کو اتنا بڑھاؤں گا کہ جس طرح آسمان کے ستارے گنے نہیں جاتے اسی طرح وہ بھی گئی نہ جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔رسول کریم ﷺ نے ایک بچہ نہ مانگا بلکہ یہ فرما یا اِنِّی مُكَائِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ 3 کہ میں اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی زیادہ امت دی۔پس درود کی دعا کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم کی دعائیں ان کی امت کے متعلق اس سے بڑھ کر قبول ہوئیں جس قدر کہ کی گئی تھیں اسی طرح امت محمدیہ کو کیفیت اور کمیت کے لحاظ سے ان دعاؤں سے بڑھ کر دیا جائے جو رسول کریم علیہ نے کی ہیں۔اب یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اس کے لئے درود کیوں رکھا مسلمان یہ دعائیں کر