سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 472
سيرة النبي علي کو دیا گیا اس سے آپ کی ہتک ہے۔صلى الله 472 جلد 2 مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ذاتی فضیلت کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہوا کرتی ہیں جو درجہ کی بلندی کا ثبوت ہوتی ہیں اور جب کہ ذاتی فضیلت کے لحاظ سے اعتراض پڑتا ہے اور ادھر قرآن کریم میں درود پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کریم ﷺ نے درود پڑھنے کا طریق بھی بتایا ہے تو پھر دیکھنا یہ چاہئے کہ کس طرح اور کس لحاظ سے رسول کریم ﷺ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور درود پر اعتراض نہیں پڑتا۔قرآن کریم کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق دو قسم کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک تو ذاتی ہیں مثلاً یہ کہ ابراہیم علیم ہے، اواب ہے، صدیق ہے، خدا کا مقرب ہے ان فضیلتوں کے لحاظ سے لازم ماننا پڑے گا کہ رسول کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھ کر تھے ورنہ آپ خاتم النبین اور سید ولد آدم نہیں ہو سکتے۔مگر ایک چیز حضرت ابراہیم میں ایسی پائی جاتی ہے جو ان کی ذاتی خوبی نہیں بلکہ ان کی قوم کی فضیلت ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ 1 کہ ہم نے ابراہیم کو ہی نبوت نہیں دی تھی بلکہ اس کی ذریت کو بھی بڑا درجہ دیا تھا اس میں نبوت رکھ دی تھی۔یہ وہ فضیلت ہے جو حضرت ابراہیم کی نسل کو خاص طور پر حاصل ہوئی کہ اس میں نبوت رکھی گئی۔اس کے ساتھ ہی ہم ایک اور بات دیکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی ہے کہ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ 2 کہ میرے اور اسمعیل کی اولاد سے امت مسلمہ پیدا کر دے۔اب دیکھو حضرت ابراہیم تو یہ دعا مانگتے ہیں کہ ان کو امت مسلمہ ملے مگر خدا تعالیٰ اس دعا کو اس رنگ میں قبول کرتا ہے کہ ہم نبیوں کی جماعت پیدا کریں گے۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے جو مانگا اس سے بڑھ کر خدا تعالیٰ نے دیا۔اس سے کیا معلوم ہوتا ہے؟ یہ کہ خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ سلوک تھا کہ آپ نے جو مانگا خدا تعالیٰ نے اس سے