سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 466
سيرة النبي علي 466 جلد 2 سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے۔جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دے گا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم ہے کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے۔اور اس کے لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے تاکہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں۔اس غرض کے لئے میں نے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ کم از کم ایک ہزار آدمی ایسا ہونا چاہئے جو ان مضامین پر لیکچر دینے کے لئے تیاری کر سکے تاکہ 20 جون کو جلسہ کر کے لیکچر دئیے جائیں۔اور میں نے خواہش کی تھی کہ دوست جنوری کے اندر اندر اس بات کی اطلاع دیں تا کہ ابھی سے ان کو مضامین کی تیاری کے لئے ہدایات دی جاسکیں اور لیکچروں کے لئے تیار کیا جا سکے۔ان لیکچروں سے جو نتیجہ نکلے گا اسے اگر الگ رہنے دیا جائے تو ایک ہزار آدمی کو اس بات کے لئے تیار کر لینا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی سیرت کے اہم پہلوؤں پر عمدگی سے لیکچر دے سکیں یہی بہت بڑا اور غیر معمولی کام ہے۔اور اگر ہم صرف یہی کر سکیں کہ ایک ہزار آدمی ایسا تیار کر لیں تو یہی بہت بڑی دین کی خدمت ہوگی۔اور اس طرح ہم اگلے سال دو ہزار پھر تین ہزار پھر چار ہزار ایسے لوگ تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو رسول کریم ﷺ کی زندگی پر نہایت قابلیت سے لیکچر دے سکیں گے۔۔ایک ہزار آدمی جو ایسے تیار ہوں گے ان میں سے ہر ایک کا لیکچر سننے والے ایک ایک ہزار آدمی بھی سمجھے جائیں گوگئی مقامات پر دس بارہ ہزار تک بھی جمع ہو سکتے ہیں تو