سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 467

سيرة النبي علم 467 جلد 2 دس لاکھ آدمیوں کو سنا سکتے ہیں۔اور وہ آگے اگر دس دس آدمیوں سے لیکچر کی باتیں کریں تو ایک کروڑ تک وہ باتیں پہنچ سکتی ہیں۔اور چند سال کے اندر ہندوستان میں کوئی بشر ایسا نہیں رہ سکتا جس کے کانوں تک رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی کے صحیح حالات نہ پہنچ چکے ہوں۔یہ ایسا شاندار اور عظیم الشان کام ہے جس کا خیال ہی کر کے طبیعت میں جوش اور روح میں لذت پیدا ہوتی ہے۔پس جو دوست یہ کام کرنا چاہیں وہ جنوری کے اندر اندر اپنے ارادہ سے مجھے اطلاع دیں تا کہ ضروری ہدایات ان کو دی جاسکیں۔چونکہ ممکن ہے جلسہ کے شور وشغب کی وجہ سے احباب اس بات کو بھول گئے ہوں اس لئے خطبہ کے ذریعہ پھر اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ ہماری جماعت کے ہی لوگ ہوں جو شخص بھی رسول کریم کے سے محبت رکھنا ، آپ کی عزت کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا اور اس کام کو کار ثواب سمجھتا ہے اس سے میں خواہش کروں گا کہ اگر وہ اس کام کے لئے اپنا وقت قربان کر سکتا ہے، اگر اس کام کو مفید سمجھتا اور اسے خدمت اسلام قرار دیتا ہے تو اپنا نام پیش کرے۔ہم اسے لیکچروں کی تیاری میں ہر طرح سے مدد دینے کے لئے تیار بلکہ اس کے ممنون بھی ہوں گے۔مگر میں کہتا ہوں ایسے آدمیوں کے لئے مسلمان کہلانے والوں کی بھی خصوصیت نہیں۔رسول کریم ﷺ کے احسانات سب دنیا پر ہیں اس لئے مسلمانوں کے علاوہ وہ لوگ جن کو ابھی تک یہ توفیق تو نہیں ملی کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس تعلق کو محسوس کر سکیں جو آپ کو خدا تعالیٰ کے ساتھ تھا مگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قربانیوں سے بنی نوع انسان پر بہت احسان کئے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔ان کی زبانی رسول کریم ﷺ کے احسانات کا ذکر زیادہ دلچسپ اور زیادہ پیارا معلوم ہو گا۔پس اگر غیر مسلموں میں سے بھی کوئی اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کریں گے تو انہیں شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور ان کی اس خدمت کو قدر کی نگاہ