سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 34

سيرة النبي علي 34 جلد 2 نے کہا اے موسی ! ہم تو اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہرگز نہ جائیں گے۔تیرا خدا اور تُو جا اور جا کر لڑ و4۔بائبل سے ثابت ہے کہ حضرت موسی کی جماعت کا ایک بہت قلیل حصہ مقابلہ کے لئے تیار ہوا اور باقی ساری کی ساری قوم پیچھے رہ گئی 5۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسی کی جماعت کے اکثر حصہ کی حالت یہ ہوئی کہ اس نے ان کو کہہ دیا کہ تو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے۔ان کے بعد ہم حضرت عیسی کی ایک واقعہ حضرت عیسی علیہ السلام طرف آتے ہیں۔وہ دنیا میں آئے اور انہوں نے لوگوں کی اصلاح کی جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔مگر اس وقت ہمیں مقابلہ کر کے یہ دیکھنا ہے کہ ان کا کام رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں کیسا تھا۔ان کی جماعت میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ جب دشمن نے حضرت عیسی کو پکڑنا چاہا تو اُس وقت ان کے بڑے حواری سے جس کو انہوں نے اپنی جماعت کا امام بنایا ہوا تھا جب پوچھا گیا کہ تو عیسی کو جانتا ہے؟ تو اس نے یہ دیکھ کر کہ میں بھی پکڑا جاؤں گا کہا کہ میں تو اس پر لعنت کرتا ہوں 6 تو بجائے اس کے کہ وہ اس وقت یہ کہتا کہ ہاں میں اسے جانتا ہوں جو اس کا حال ہوگا وہی میرا ہو گا۔وہ کہتا ہے کہ میں اسے جانتا ہی نہیں اور پھر اس پر بس نہیں کرتا بلکہ لعنت کرتا ہے۔ایک واقعہ نبی اکرم مع ان واقعات کے مقابلہ میں رسول کریم میں نے کی تیار کردہ جماعت کو دیکھتے ہیں۔رسول کریم ہے اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور مدینہ آ کر مدینہ والوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو مدینہ والے اس کے مقابلہ میں لڑیں گے اور اگر باہر جا کر لڑنا پڑا تو ان پر لڑ نا فرض نہ ہوگا لیکن جب احد کی لڑائی کا وقت آیا اور دشمن نے مدینہ پر حملہ کرنا چاہا تو صحابہ میں مشورہ ہوا اور یہ قرار پایا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑیں تا کہ لڑائی کے لئے کھلا میدان مل جائے۔لیکن مشکل یہ تھی