سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 33

سيرة النبي عل الله 33 جلد 2 تیار کردہ جماعت قربانی اور ایثار، تقویٰ و طہارت، نیکی اور بھلائی میں سب سے بڑھ کر ثابت ہو تو خواہ دنیا کچھ کہے اور کسی کو افضل ٹھہرائے دلائل اور ثبوت ہی پکار پکار کر کہیں گے کہ محمد ﷺ ہی سب سے افضل ہیں اور کوئی نہیں جو ان کی شان کو پہنچ سکے۔اثرات تعلیم رسول و تعلیم انبیاء، اب ہم ان انما علیم السلام کی تعلیموں کے نتائج کا موٹا سا مقابلہ کرتے ہیں۔حضرت موسی آئے اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی۔کسی قوم اور جماعت کی فرمانبرداری اور اطاعت کا پتہ مشکلات اور مصائب کے وقت ہی لگا کرتا ہے۔قصہ مشہور ہے کہ ایک پور بیا مر گیا اور اس کی بیوی نے ماتم شروع کیا کہ ہائے فلاں۔اس نے اتنا روپیہ لینا تھا وہ کون لے گا؟ ایک دوسرا پور بیا بولا ”اری ہم“۔پھر اس نے کہا فلاں جائیداد کا کون انتظام کرے گا ؟ اسی نے کہا ”اری ہم “۔اسی طرح کہتے کہتے جب اس نے یہ کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا ؟ تو کہنے لگا میں ہی بولتا جاؤں کوئی اور بھی بولے گا یا نہیں ؟ تو ایسے تو بہت لوگ ہوتے ہیں جو لینے اور فائدہ اٹھانے کے وقت آگے بڑھتے ہیں لیکن مشکل کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔اس لئے اصل قربانی اور محبت کا پتہ مشکلات کے وقت ہی لگتا ہے۔حضرت موسی کی جماعت کا ایک واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعہ قرآن میں آتا ہے اور بائبل میں بھی مذکور ہے۔اس لئے جب کہ نہ مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں اور نہ عیسائی تو پھر اور کسی کو اس کا انکار کرنے کا کیا حق ہے۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسی کو ایک ایسی قوم سے مقابلہ آپڑا جو بڑی زبر دست اور طاقتور تھی۔تو حضرت موسی نے اپنی قوم کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کا حکم دیا مگر ان کی قوم نے یہ دیکھ کر کہ ہمارا دشمن بڑا طاقتور ہے کہا کہ اس سے ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔حضرت موسیٰ نے کہا تم خدا کا نام لے کر چلو تو سہی خدا ہمیں مدد دے گا۔اس کے جواب میں انہوں