سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 458
سيرة النبي الله 458 جلد 2 سیرت رسول عے کے حوالے سے ایک منصوبہ 27 دسمبر 1927ء کے خطاب میں ہی حضرت مصلح موعود نے رسول کریم کی سیرت اور آپ پر حملوں کے دفاع کا اعلان کرتے ہوئے ایک سکیم کا اعلان فرمایا:۔”اب میں آخری بات بیان کرنا چاہتا ہوں جو نہایت اہم ہے۔دیکھو ساری مصیبت مسلمانوں کے لئے یہ ہے کہ وہ استقلال سے کام نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ ان کے مخالف دلیر ہوتے جاتے ہیں۔جو دشمن اٹھتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے لگ جاتا ہے۔ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا حملہ ہوتا ہے مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ جس طرح بچے آپس میں کہتے ہیں آؤ چور چور کھیلیں، اس کھیل کے لئے ایک پولیس مین بن جاتا ہے دوسرا چور بن جاتا ہے چور کو پکڑ کر سزا دی جاتی ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد وہ چور اور پولیس مین بننے والے ایک دوسرے کے گلے میں باہیں ڈال کر چلے جاتے ہیں۔اسی طرح مسلمان کرتے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت پر حملہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں آؤ رسول اللہ ﷺ کی عزت کا کھیل کھیلیں۔اُس وقت ان میں بڑا جوش ہوتا ہے مگر دوسرے وقت بالکل ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔اگر مسلمانوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی عزت کا احساس ہو تو کبھی آپ کی عزت کی حفاظت سے غافل نہ ہوں۔پچھلے دنوں جب آریوں کی طرف سے پے در پے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف حملے ہوئے اور میں نے مسلمانوں کو اس کے مقابلہ کے لئے صحیح طریق عمل