سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 459

سيرة النبي علي 459 جلد 2 بتایا تو کئی خطوط میرے پاس آئے جن میں لکھا تھا کہ تم نے بہت بزدلی سے کام لیا ہے جو یہ لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بدزبانی کرنے والے کو مارنا نہیں چاہئے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بینک کرے اسے کیوں مارنا نہیں چاہئے۔آپ مسلمانوں کو اس بزدلی کی تعلیم نہ دیں۔ایک دو خطوط جن میں پتہ درج تھا میں نے انہیں قائل بھی کیا کہ ان کی رائے غلط ہے مگر اب یہ حالت ہے کہ ان لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی حفاظت کا خیال بھی نہیں رہا اور وہ آپ کی ہتک کرنے والوں کے دوست بن گئے ہیں۔ہم خود چاہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں میں صلح ہو اور ملک کی ترقی کے لئے ہندو مسلمانوں کا اتحاد ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرنے والی کوئی بات نہ ہو۔کیا کوئی ہے جو اس بات کی ذمہ داری لے کہ اب ہندوؤں کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کوئی نا پاک کتاب شائع نہ ہوگی اور اسلام پر دل آزار حملے نہ کئے جائیں گے؟ اب نہ تو ایسے حملوں کا احتمال جاتا رہا ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا کوئی سامان ہوا ہے پھر ہندو مسلمانوں میں اتحاد کس طرح ہو سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر کیوں حملہ کی جرات پیدا ہوتی ہے اور کیوں اس نا پاک فعل کے ارتکاب کی دلیری کی جاتی ہے؟ اس کی دو وجہیں ہیں۔ایک یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو ایسے برے طور پر پادریوں نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے کہ غیر مسلم لوگ واقعہ میں آپ سے بغض اور نفرت رکھتے ہیں اور اکثر حصہ ایسا ہے کہ چاہے وہ منہ سے آپ کو گالی نہ دے مگر دل میں سمجھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اس وجہ سے آپ کے خلاف نا پاک حملے کئے جاتے ہیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ خود مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبیوں سے ناواقف ہونے کی وجہ سے دنیا کے سامنے آپ کی ذات کو ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ