سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 455
سيرة النبي الله 455 جلد 2 ،، دو مسلم آؤٹ لگ کے مضمون میں اس امر پر اظہار ناراضگی کیا گیا تھا کہ قابل جج کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینا اور بات ہے اور قوم میں نفرت پیدا کرنا اور امر ہے۔گویا حج نے یہ قرار دیا تھا کہ اگر کسی کے باپ کو گالی دی جائے تو اس سے اس شخص کو جوش پیدا ہوسکتا ہے لیکن اگر اس کے رسول کو گالی دی جائے تو پھر جوش نہیں پیدا ہوسکتا۔ہم ایک ہندوستانی حج سے جومسلمانوں کے مذہبی جذبات اور احساسات سے واقفیت رکھتا تھا اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق مسلمانوں کے اخلاص اور محبت سے آگاہ تھا اس قسم کے فیصلہ کی توقع نہ رکھتے تھے۔مگر عجیب بات ہے کہ وہ ہندوستانی ہو کر، ہندوستان میں رہ کر، ہندوستانی مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے واقف ہو کر یہ خیال کرتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی جائیں تو اس سے مسلمانوں میں نفرت اور حقارت کے جذبات نہیں پیدا ہو سکتے اور نہ جائز طور پر فساد پیدا ہوسکتا ہے لیکن اگر خود ان کو گالیاں دی جائیں تو پھر جائز طور پر فساد ہوسکتا ہے۔یہ اس حج کی ناواقفیت تھی جس پر مسلم آؤٹ لگ نے جرح کی تھی نہ ہائی کورٹ پر حملہ کیا تھا۔میرے نزدیک ہائی کورٹ پر حملہ کرنا سخت نا جائز ہے اور اگر ایسا کیا جاتا تو میں کبھی تائید نہ کرتا لیکن یہ بات ہی نہ تھی۔ایک حج کی بطور حج ہتک نہ کی گئی تھی بلکہ اس بات کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی کہ ایک ایسا شخص جو مسلمانوں میں رہتا، مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے واقفیت رکھتا، ان کے مذہبی جذبات اور احساسات کو سمجھتا تھا اس نے یہ فیصلہ کیونکر کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک سے مسلمانوں میں جائز طور پر جوش نہیں پیدا ہوسکتا۔آخر جب ایڈیٹر مسلم آؤٹ لگ“ کو سزا دی گئی تو میں نے 22 جولائی کو ہر جگہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے جلسہ کرنے کی تحریک کی۔مجھے خیال تھا کہ عام طور پر مسلمان اس تحریک کی مخالفت کریں گے اور جلسہ نہیں ہونے دیں گے اس وجہ سے میں تحریک لکھ لینے کے بعد اپنے مضمون میں سے اسے کاٹنے لگا تھا لیکن پھر