سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 456

سيرة النبي عمال 456 جلد 2 مجھے یہ خیال آیا کہ میں نے اپنی طرف سے تو یہ تحریک لکھی نہیں خدا تعالیٰ نے مجھ سے لکھائی ہے وہی اس کو کامیاب بنانے کا سامان کرے گا۔پھر اگر چہ اس کی مخالفت کی گئی مگر با وجود اس کے سارے ہندوستان میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک اس تحریک کے ماتحت 22 جولائی کو جلسے کئے گئے۔مسلمانوں میں خاص بیداری پیدا ہوگئی اور اخباروں نے لکھا کہ ایسا شاندار مظاہرہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوا۔اس سے مسلمانوں کو محسوس ہو گیا کہ اگر وہ مل کر آواز اٹھائیں تو وہ پُر شوکت اور پُر ہیبت ہو سکتی ہے۔اسی دوران میں اس کام کو مضبوط بنانے کے لئے انجمن ترقی اسلام کی بنیا د رکھی گئی تا کہ اس کے ذریعہ ایسے لوگوں کو جمع کیا جائے جو عام اسلامی کاموں میں مدد دے سکیں۔چنانچہ مختلف فرقوں کے ایسے ایک ہزار آدمیوں نے اس کام کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو ہمارے سلسلہ سے سخت مخالفت رکھتے تھے حتی کہ کسی احمدی سے مصافحہ کرنا بھی جائز نہ سمجھتے تھے۔چنانچہ یو۔پی کے ایک پیر صاحب نے لکھا کہ میں آپ کے سلسلہ کے سخت خلاف تھا اور کسی احمدی سے بات کرنا بھی جائز نہ سمجھتا تھا مگر اب سیاسی اور تمدنی معاملات میں گلی طور پر اپنے آپ کو آپ کے اختیار میں دیتا ہوں۔غرض ہر طبقہ کے لوگ اس انجمن میں داخل ہوئے۔ان میں رؤسا بھی ہیں، علماء بھی ہیں، پیر بھی ہیں، انگریزی خوان بھی ہیں اور ان کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔اور اس تحریک کو اس قدر کامیابی ہوئی ہے کہ پہلا اشتہار دس ہزار کی تعداد میں مسلمانوں میں تقسیم کیا گیا تھا مگر اس میں سے بھی کچھ بچ رہا لیکن آخری اشتہار اس سلسلہ کا جو شائع ہوا وہ سات ہزار شائع کیا گیا اور پہلے ہی دن ختم ہو گیا۔اگر اس انتظام کو اور مضبوط بنایا جائے تو دس لاکھ اشتہار بھی پورے نہ ہوسکیں اور ایک ماہ میں تمام مسلمانوں کو بیدار کیا جاسکتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کا بہت اچھا نتیجہ نکلا اور مسلمانوں کو