سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 453
سيرة النبي الله 453 جلد 2 رسول کریم ع کے پہرہ کی حکمت جلسہ سالانہ قادیان 27 دسمبر 1927ء میں حضرت مصلح موعود نے رسول کریم کے پہرہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر دین کے لئے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہونے کی خواہش اور کس کو ہو سکتی ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کا خطرہ ہوتا تو صحابہ آپ کی حفاظت کرتے اور قبیلہ قبیلہ کے لوگ باری باری آپ کے گھر کا پہرہ دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کی اجازت دیتے۔اور اُس وقت جبکہ لوگ پہرہ دے رہے ہوتے آپ بعض اوقات ان سے باتیں کرنے کے لئے باہر تشریف لے آتے تا کہ ان کا دل خوش ہو۔چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احتیاط کرنے کا حکم ہے اس لئے ہم بھی احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہیں ورنہ ایسی باتیں مومن کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہیں۔ہم خدا تعالیٰ کے پرستار ہیں اور اس خدا کے پرستار ہیں جو ہر قسم کی طاقت اور قوت رکھتا ہے۔کسی انسان کے پرستار نہیں ہیں اس لئے جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے کام، اپنے آپ چلاتا ہے اور ان کے لئے آپ سامان پیدا کرتا ہے، بندوں پر خدا تعالیٰ کے کاموں کا انحصار نہیں ہوتا۔بندوں میں سے سب سے بڑا درجہ رسول کا ہوتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے کاموں کا انحصار رسول پر بھی نہیں ہوتا۔پھر خلیفہ کیا!! خلیفہ تو رسول کا غلام ہوتا ہے۔پس خدا تعالیٰ اپنا کام آپ چلاتا ہے کوئی رہے یا نہ رہے، کوئی بچے یا نہ بچے اس کا کام چلتا ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا۔‘ تقریر دلپذ یر صفحہ 4 مطبوعہ قادیان 1928ء)