سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 449

سيرة النبي علي 449 جلد 2 میں اپنے افعال سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ ہندوؤں کو فائدہ پہنچایا ہے کیونکہ کسی قوم کے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لئے اس کی مظلومیت کے واقعات بڑے مؤثر ہوتے ہیں۔عیسائیوں کو دیکھو! حضرت مسیح کی مظلومیت انیس سو سال سے ان کو قوت اور طاقت دے رہی ہے۔اسی طرح شیعوں کو دیکھو! حضرت امام حسین کی شہادت نے ان کو کس قدر تقویت دی ہے۔اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو ان کو یہ ترقی حاصل نہ ہو سکتی۔تو مظلومیت کی حکایت کمزور قوم کو بھی طاقت ور اور زبر دست بنا دیتی ہے۔پس یہ واقعات جو ہوئے اسلام کے لئے مضر اور ہندوؤں کے لئے مفید ہیں۔کسی نے کہا ہے خدا مجھے نادان دوستوں سے بچائے۔میں مسلمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ایسے واقعات کو حقارت اور نفرت کی نظر سے دیکھیں تا کہ آئندہ کسی اور کو جرات نہ ہو۔ہاں جب تک جرم ثابت نہ ہو اُس وقت تک چھوڑ دینا غداری ہے کیونکہ ممکن ہے ملزم بے گناہ ہو اس نے جرم نہ کیا ہو۔اُس وقت ہمدردی اور امداد سے انکار کرنا قومی غداری ہے۔اگر انہوں نے خود مدد نہیں مانگی تو پھر مدد دینے والوں کا قصور نہیں لیکن مدد مانگنے پر مدد نہ دینے والے ضرور قصور وار ہیں اور اگر انہوں نے مدد مانگی نہیں تو پھر یہ فخر کرنا کہ ہم نے ان کو مدد نہیں دی یہ نا درست ہے۔لیکن جب جرم ثابت ہو گیا اس وقت یہ کہنا کہ سزا سخت ہے ناجائز ہے۔میرے نزدیک سزا اور سخت دینی چاہئے تھی تا کہ آئندہ لوگ ایسے جرائم نہ کریں۔یہ بات اسلام کے لئے مفید اور ہندوؤں کے لئے مضر ہے۔جتنی سزا ہو گی اتنی ہی ہندوؤں کے لئے مضر ہو گی کیونکہ اس طرح ان کا غصہ کم ہو جائے گا کہ انتقام لے لیا گیا مگر ہمارے لئے مفید ہو گی۔میں ہر طرح اخلاقی، طبعی، سیاسی اور تمدنی طور پر غور کرنے سے اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بزدلوں سے ایسے افعال ہوتے ہیں کوئی بہادر اور دلیر انسان ایسا نہیں کرتا۔اس لئے ایسے لوگ سختی سے ڈر بھی جلدی جاتے ہیں اور ان کے ڈرنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایسے واقعات نہ ہوں گے۔پس اسلامی نقطہ نگاہ سے تو ہم یہی کہیں گے کہ اور بھی زیادہ