سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 446
سيرة النبي عالي 446 جلد 2 حالت میں کون امید کر سکتا ہے کہ سوامی شردھانند کے رشتہ داروں نے انہیں خود مارکر ایک شخص کو پکڑ لیا۔یہ عقل کے خلاف ہے۔ملزم کا وہاں ہونا، عین موقع پر پکڑا جانا، اس کے ہاتھ میں پستول ہونا، پستول کی گولیوں کا مقتول کے جسم سے نکلنا، یہ ایسے واقعات نہیں ہیں کہ جرم ثابت نہ ہو۔ایسی مثال میں مجرم کی مدد کرنا میرے نزدیک جائز نہیں۔ہاں عدالت کا فرض ہے کہ اس کے لئے وکیل مقرر کرے تا کہ کیس ان ڈیفنڈ ڈ (Undefended) نہ رہے۔لیکن جہاں ایسا کھلا کیس نہ ہو جیسا کہ راجپال اور عبدالرشید کا تھا وہاں مسلمانوں کا حق ہے کہ ملزم کی مدد کریں۔پس میرے نزدیک یہ غلطی ہوئی۔پیشتر اس کے کہ لاہور کے مقدمات میں مجرم ثابت ہوں ملزموں کو اپنی حفاظت کا موقع نہیں دیا گیا اور ان کی طرف سے وکیل مقرر نہیں کیا گیا۔صرف ایسے واقعات کا جمع ہو جانا جن سے جرم کا اشتباہ ہو مجرم قرار دینے کے لئے کافی نہیں ہوا کرتا۔اور اس کے ساتھ ملزم کے دفاع کے حقوق نہیں جاتے رہتے۔لیکن ارتکاب جرم کے یقین تک پہنچنے کے بعد مجرم کی مدد کرنا جائز نہیں ہے۔اور لاہور کے جو دونوں ملزم تھے ان کے متعلق یقین کا موقع نہ تھا۔یقین اسی وقت ہوا جب مجسٹریٹ نے تحقیقات کی۔میرے نزدیک مسلمان وکلاء سے غلطی ہوئی کہ وہ ان ملزموں کی مدد کے لئے کھڑے نہ ہوئے۔اور پھر دوسری غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے کھڑے نہ ہونے پر فخر کیا۔انہیں مقدمہ کے شروع ہونے کے وقت ضرور امداد دینی چاہئے تھی۔ہاں جب جرم ثابت ہو جاتا تو مقدمہ چھوڑ سکتے تھے۔جن واقعات کا اس وقت ذکر ہے ان میں الزام ثابت نہ ہوا تھا کہ قانونی امداد نہ دی گئی۔جس کا یہ مطلب ہے کہ بیسیوں ایسے لوگ پکڑے جائیں گے جنہوں نے کوئی جرم نہ کیا ہو گا مگر مسلمان ان کی امداد کرنا چھوڑ دیں گے اور وہ مصائب اور آلام میں گرفتار ہو جائیں گے۔میرے نزدیک یہ بہت بڑی غداری ہو گی۔جب کسی کے اپنے بیان سے جرم ثابت ہوتا ہے تو اس کی امداد کرنا ظالمانہ فعل ہے۔لیکن جب تک جرم ثابت نہ ہو بغیر مدد کے چھوڑ دینا