سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 32

سيرة النبي علم 32 جلد 2 انبیاء کی تعلیم کا مقابلہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ آیا محمد ﷺ کو یہ فضیلت حاصل ہے یا نہیں کہ آپ کی تعلیم پھل اور نتائج کے لحاظ سے دوسروں سے اعلیٰ ہے۔اگر آپ کی تعلیم کے پھل دوسرے انبیاء کی تعلیموں سے زیادہ اور اعلیٰ درجہ کے ہوں تو پھر آپ اعلیٰ اور افضل ہونے میں بھی شک و شبہ نہیں رہ جاتا لیکن اگر آپ کی تعلیم کے پھل اور ثمرات اور فوائد پہلے نبیوں کی تعلیموں سے کم ہوں تو آپ بھی ان نبیوں سے کم درجہ کے ہوں گے۔صل الله اس اصل کے ماتحت ہم رسول کریم ﷺ کی تعلیم کو دیکھتے ہیں اور موٹی موٹی چند ایک مثالیں لیتے ہیں کہ آدمی کو درختوں کی طرح میوے نہیں لگا کرتے بلکہ اس کے پھلوں سے یہ مراد ہوتی ہے کہ جو تعلیم وہ دیتا ہے اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوتا ہے اور اس کی تعلیم سے کیسے لوگ تیار ہوتے ہیں۔اس بات کا موازنہ کرنے کے لئے ہم تین نبیوں کو لیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ آدَمَ 3 کہ میں آدم کے تمام بیٹوں کا سردار ہوں۔اس دعوی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ہم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی اور آنحضرت ﷺ کا مقابلہ کرتے ہیں۔حضرت موسی اور حضرت عیسی خدا تعالیٰ کے نبی تھے جیسا کہ خود خدا تعالیٰ نے بتایا ہے اس لئے ان کے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ اور پیارے ہونے سے کس طرح انکار کیا جاسکتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کا محمد میے کے مقابلہ میں کیا درجہ ہے؟ اس کے لئے ہم ان کے پھلوں کو دیکھتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ حضرت موسی کی تعلیم کو کیسے پھل لگے اور حضرت عیسی کی تعلیم کو کیسے اور رسول کریم ﷺ کی تعلیم کو کیسے۔یہ سب انبیاء چونکہ دنیا کی اصلاح کے لئے آئے تھے اس لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کس نبی نے اپنی تعلیم کے ذریعے ایسی جماعت تیار کی جو تقویٰ اور طہارت میں سب سے بڑھ گئی اور کوئی جماعت اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔جس نبی کی تیار کردہ جماعت ایسی ثابت ہو جائے گی وہ سب سے بڑھ جائے گا خواہ وہ عیسی ہو خواہ موسی۔اگر محمد عے کی