سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 437

سيرة النبي عمال 437 جلد 2 66 حالت اور وقت کے لئے آپ نے دعا ئیں تعلیم فرمائیں۔مگر مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ آج وہ سب سے زیادہ دعا سے عملاً متنفر ہیں۔عیسائی سب سے زیادہ دعا کی طرف متوجہ ہیں اور ہندو بھی کم نہیں۔(لیکچر شملہ صفحہ 13 تا 15 مطبوعہ قادیان 1927ء) رسول کریم ﷺ کی بعثت کی ایک فرض رسول کریم ﷺ کی بعثت کی صلى الله ایک غرض رسومات کو ختم کرنا ہے اس کی بابت حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔میں دیکھتا ہوں کہ بہت سا روپیہ فضول رسوم میں ضائع ہوتا ہے۔ان تمام رسومات کو ترک کر دو۔محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت میں خدا تعالیٰ محلِ انعام میں فرماتا ہے کہ آپ کی بعثت ان رسوم کے توڑنے کے لئے ہے۔وہ رحمۃ للعلمین ہو کر آئے ہیں۔پھر جو چیز رحمت کا باعث تھی مسلمان اسے چھوڑ کر وہی پھانسی اپنے گلے میں الله کیوں ڈالتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی آمد کی غرض یہ ہے کہ ان تمام فضول اور بے جا رسوم سے جنہوں نے گردنوں میں طوق ڈال دیئے تھے آزاد کر دیں اور ان زنجیروں سے نجات دلائی مگر ہم اس کی پرواہ نہیں کرتے۔یہ کس قدر شرم کا مقام ہے۔مسلمانوں کے بہت سے قرضوں اور فضول خرچیوں کی اصلاح اسی ایک امر سے ہوسکتی ہے۔میرے استاد حضرت خلیفہ اول اپنے جود وسخا کی وجہ سے مشہور تھے اور لوگ آپ کے پاس اس غرض کے لئے آتے رہتے تھے۔ایک مرتبہ ایک شخص دہلی سے آیا کہ میری لڑکی کی شادی ہے۔آپ نے فرمایا کہ میں اس قدر روپیہ تمہاری لڑکی کی شادی کے لئے دوں گا جس قدر رسول کریم ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی پر خرچ کیا۔اس نے کہا کہ میری تو ناک کٹ جائے گی۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ رسول اللہ ہے کی تو نہ کٹی اور تمہاری باوجود کٹ جانے کے کہ تم مانگنے کے لئے یہاں آئے ہوا ایسی شادی کرتے ہوئے کٹتی ہے۔