سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 31

سيرة النبي علي 31 جلد 2 ہر ایک چیز کا خالق ہے اور اس کی تمام مخلوق شہادت پیش کر رہی ہے مگر چونکہ اس قدر وسیع باتوں کا سمجھنا اور اس وقت ان کا پیش کرنا آسان نہیں ہے اس لئے میں ایک ہی دلیل کو لیتا ہوں جو بہت بڑی ہے اور جس کا سمجھنا ہر ایک انسان کے لئے نہایت آسان ہے۔وہ دلیل جو حضرت مسیح کے قول میں بیان کی گئی ہے چائی پر کھنے کا معیار حضرت مسیح انجیل میں فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل ہی سے پہچانا جاتا ہے 2 جب کسی درخت کو پھل لگتے ہیں تو ان کے ذریعہ اس کی خوبی اور برتری معلوم ہوسکتی ہے۔یہ ایک بالکل سچا واقعہ اور نیچر کا مقرر کردہ قاعدہ ہے جس کو حضرت مسیح نے بیان کیا ہے۔مثلاً آم کے درخت کو کیکر کے درخت پر کیا فضیلت ہے؟ یہی کہ آم شیریں پھل دیتا ہے لیکن کیکر نہیں دیتا۔پھر آم کے درختوں کی ایک دوسرے سے کیونکر قیمت بڑھتی ہے؟ اسی طرح کہ کوئی درخت کم پھل دیتا ہے اور کوئی زیادہ کسی کے پھل شیریں ہوتے ہیں اور کسی کے کھٹے۔تو پھلوں کی وجہ سے ہی ایک درخت کو دوسرے درخت پر فضیلت ہوتی ہے اور اسی وجہ سے ایک کی قیمت دوسرے کی قیمت سے بڑھتی ہے۔یہی حال اور دوسرے درختوں کا ہوتا ہے کہ جس غرض اور جس کام کے لئے وہ ہوتے ہیں اس کو جو اعلیٰ طور پر پورا کرتا ہے اس کو دوسروں پر فضیلت دی جاتی ہے اور جو اس غرض کو پورا نہیں کرتے ان کی کچھ فضیلت نہیں رہتی۔دیکھو آم کا درخت پھل دینے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے مقابلہ میں ایک ایسے درخت کی قیمت بڑھ جاتی ہے جو کوئی پھل نہیں دیتا کیونکہ اس کی لکڑی آم کی لکڑی کی نسبت مضبوط اور اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔تو آم، انار اور اور درختوں کی قیمت ان کے پھلوں کی شیرینی پر لگتی ہے۔مقابلہ آنحضرت علی بر دیگر انبیاء اس اصل کے ماتحت ہم محمد صلى الله رسول اللہ علی اور دوسرے