سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 30

سيرة النبي علي 30 جلد 2 موجود ہیں جو ہم پیش کرتے ہیں لیکن دوسرے لوگ محض ضد اور تعصب سے ایسا دعویٰ کرتے ہیں۔ان کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو اپنی ہی چیز کو اچھا کہے اور دوسروں کے پاس خواہ اس سے اچھی چیز موجود ہوا سے برا قرار دے۔کرشمہ اُلفت و محبت کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا ایک دن جبکہ اس کا دربار لگا ہوا تھا اس نے اپنے ایک غلام کو ٹوپی دی اور کہا جولڑ کا سب سے خوبصورت ہو اس کے سر پر رکھ دو۔وہ ٹوپی لے کر گیا اور اپنے میلے کھیلے لڑکے کے سر پر رکھ آیا جس کے ہونٹ بہت موٹے تھے، ناک بہہ رہی تھی اور آنکھیں چندھائی ہوئی تھیں۔بادشاہ نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا؟ اس نے کہا بادشاہ سلامت! مجھے یہی لڑکا سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے اس لئے اسی کے سر پر ٹوپی رکھ آیا ہوں۔تو یہ عام قاعدہ ہے کہ اپنی ہی چیز کو اعلیٰ اور سب سے افضل قرار دیا جاتا ہے۔کہتے ہیں کسی نے مجنوں کو کہا تھا کہ لیلی کوئی خوبصورت عورت نہیں ہے اس سے اعلیٰ درجہ کی اور کئی عورتیں ہیں تم اس پر کیوں مر رہے ہو؟ مجنوں نے کہا تمہاری نظر میں وہ خوبصورت نہ ہوگی اس کو میری آنکھوں سے دیکھو تو معلوم ہو۔تو جس سے انسان کو محبت ہوتی ہے اس کا درجہ سب سے بڑھاتا ہے اور اس کو سب سے اعلیٰ قرار دیتا ہے۔اسی طرح دوسرے مذاہب والے اپنے اپنے بزرگوں کو جو سب سے اعلیٰ اور افضل بتاتے ہیں تو محض محبت اور تعلق کی وجہ سے بتاتے ہیں مگر ان کے افضل اور اعلیٰ ہونے کا جب ان سے ثبوت طلب کیا جائے تو کچھ پیش نہیں کر سکتے۔ثبوت صرف ہمارے پاس ہے جو ہم رسول کریم ﷺ کے سب سے اعلیٰ اور افضل ہونے کے متعلق پیش کر سکتے ہیں۔ہمارے پاس رسول کریم ﷺ کے افضل ہونے کے ثبوت اور دلائل تو اتنے ہیں کہ اگر ان کو ہم پیش کرنا شروع کریں تو سالہا سال کا عرصہ درکار ہے۔قرآن کریم سارے کا سارا رسول کریم علیہ کی افضلیت کے ثبوتوں سے بھرا ہوا ہے۔زمین و آسمان آپ کی افضلیت کی شہادت دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو الله