سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 430

سيرة النبي عالي 430 جلد 2 شخص نے فساد ڈلوانے کی نیت سے کتاب لکھی تھی یا نہیں یا اس سے فساد کا احتمال ہوسکتا تھا یا نہیں یا دو قوموں میں فساد پڑ سکتا تھا یا نہیں؟ اور اگر کوئی حج اس رائے کا ہو جائے کہ فساد ڈلوانے کی نیت نہ تھی یا یہ خیال کر لے کہ ان حملوں کی وجہ سے فساد نہیں پڑسکتا تھا یا یہ کہ دو قوموں میں فساد نہیں پڑ سکتا تھا تو پھر خواہ کیسی ہی گندی کتاب لکھی گئی ہو اس کے لکھنے والے پر کوئی گرفت نہیں ہو سکے گی۔پس قانون میں ایک ایسی دفعہ زیادہ ہونی چاہئے جس کی رو سے ہر وہ شخص جو خدا تعالیٰ کی یا کسی مذہب کے بانی کی یا نبی کی بہتک کرے یا اس پر تمسخر اڑا ئے خواہ فساد کا احتمال ہو یا نہ ہوا سے سزا دی جا سکے کیونکہ اگر فساد کے احتمال پر سزا کی بنیاد رکھی گئی تو تو میں اپنے بانیوں اور بزرگوں کی ہتک کرنے والوں کو سزا دلوانے کے لئے فساد کے آثار پیدا کرنے پر مجبور ہوں گی اور یہ ناقص قانون بجائے امن پیدا کرنے کے فساد پیدا کرنے کا موجب ہوتا رہے گا اور اس کا نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ جو تو میں اپنے مذہب کی تعلیم کے مطابق فساد سے احتراز کریں گی ان کے بزرگوں کی ہتک سے روکنے کے لئے کوئی قانون ہی نہ ہو گا اور یہ سخت ظلم کی بات ہوگی۔(2) دوسر انقص اس قانون میں یہ ہے کہ اس قانون کے ماتحت صرف گورنمنٹ ہی مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس وجہ سے کسی ایسی کتاب یا رسالے جن میں گندے سے گندے حملے بزرگانِ دین پر کئے جاتے ہیں ان پر کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا اور اس کے نتیجہ سے فساد بڑھتا ہے۔اگر ایسا رسالہ ہندوؤں نے لکھا ہوتا ہے اور گورنمنٹ اس پر مقدمہ نہیں چلاتی تو مسلمانوں کا غصہ بڑھتا ہے۔اور اگر مسلمانوں کی طرف سے ایسا رسالہ شائع ہوتا ہے اور اس پر نوٹس نہیں لیا جاتا تو ہندوؤں کا غصہ بڑھتا ہے۔اور اس وجہ سے فساد کے مٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پس ضروری ہے کہ اس قانون کی اصلاح اس طرح کی جائے کہ علاوہ گورنمنٹ کے اس بزرگ کے پیرو بھی جس کی ہتک کی گئی ہو اس جنگ کرنے والے پر تالش کر سکیں اور اسے سزا دلوا سکیں۔راجپال کے