سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 428

سيرة النبي علم 428 جلد 2 جانتے تھے کہ وہ فیصلہ غلط ہے اور اس فیصلہ کے قائم رہنے میں مسلمانوں کی سخت ہتک تھی۔پس اُس وقت میں اس مطالبہ کو نا جائز سمجھتا تھا اور میرا یہ خیال تھا اور صحیح خیال تھا کہ موجودہ قانون کی تشریح پہلے ہو جانی چاہئے اور یہ فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ کنور صاحب کا فیصلہ درست نہ تھا۔اس کے بعد ہمیں قانون کے نقص کی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ قانون میں نقص یہ نہیں کہ دفعہ 153۔الف راجپال اور ورتمان کے ایڈیٹر کو سزا دینے کے لئے کافی نہیں جیسا کہ کنور صاحب کا خیال تھا بلکہ اس میں اور نقصان ہیں۔پس اب جب قانون کی تشریح ہوگئی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قانون، بانی مذہب اور مذہب پر حملہ کرنے والوں کو دو علیحدہ مُجرموں کا مرتکب نہیں قرار دیتا تو اب ضروری ہے کہ قانون کی اصلاح کی جائے اور ان دوسرے نقصوں کو دور کیا جائے جن کی وجہ سے یہ قانون اس غرض کو پورانہیں کر سکتا جس کے لئے اسے بنایا گیا ہے۔ہم اس قانون کے نقص کے دیر سے شا کی ہیں۔چنانچہ 1897ء میں بانی سلسلہ احمد یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے۔لیکن افسوس کہ لارڈ ایٹکن نے جو اُس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔اس کے بعد سب سے اول 1914 ء میں میں نے سراڈ وائر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے گا ملک میں امن قائم نہ ہوگا۔انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب امام جماعت احمد یہ فوت ہو گئے اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔چونکہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا میں سرا ڈوائر سے مل نہ سکا اور بات یونہی رہ گئی۔