سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 421
سيرة النبي عمال 421 جلد 2 فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض ہند و رسالہ ” ورتمان“ میں ایک مضمون ”سیر دوزخ کے عنوان سے چھپا جو رسول کریم ﷺ کی ہتک پر مشتمل تھا۔مسلمانوں کے احتجاج پر ایڈیٹر رسالہ اور مضمون نگار پر مقدمہ چلا اور انہیں عدالت سے سزا ہوئی۔اس موقع پر 10 اگست 1927 ء کو حضرت مصلح موعود نے مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے یہ مضمون لکھا:۔اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ صلى الله ورتمان کے مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا اور سیر دوزخ کا مضمون لکھنے والا اور اس کا چھاپنے والا دونوں ایک سال اور چھ ماہ کے لئے دنیا کی دوزخ میں ڈال دیئے گئے۔لوگ خوش ہیں۔بعض لوگ مجھے مبارک باد کے تار دے رہے ہیں اور بہت سے خطوط کے ذریعہ سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔مگر میرا دل غمگین ہے۔میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا اپنے سردار حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ہتک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیتا۔میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں ایک دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا بلکہ میں اگلے اور پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے