سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 29
سيرة النبي علي 29 جلد 2 اور ان سے افضل اور اعلیٰ رسول کریم ﷺے ہیں۔جب سے دنیا کا آغاز ہوا ہے اُس وقت سے لے کر کسی ماں نے کوئی ایسا بچہ نہیں جنا جو محمد ﷺ کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے اور کسی ذاکر نے خدا تعالیٰ کا اتنا ذکر اپنی زبان پر جاری نہیں کیا کہ اس مقام پر قدم رکھ سکے جہاں محمد ﷺ کا قدم تھا۔خواہ کوئی نبی ہو یا غیر نبی ، رسول ہو یا غیر رسول، کوئی ہو، کسی ملک کا رہنے والا ہو، کسی تمدن کی اتباع کرنے والا ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو صل الله محمد ﷺ کے مقابلہ میں ہرگز نہیں کھڑا ہو سکتا۔صداقت عظمت رسول ع یہ صرف دعوی نہیں بلکہ صداقت اور صلى الله حقیقت ہے جس کے دلائل موجود ہیں۔خالی دعوئی تو ہر شخص پیش کر سکتا ہے۔ایک ہندو بھی کہہ سکتا ہے کہ تمہارا کیا حق ہے کہ محمد ) (ع) سب سے افضل ہے۔ہمارے اوتارسب سے اعلیٰ ہیں۔ہم احمدیت کے رو سے تو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہندوؤں میں بھی اوتار گزرے ہیں مگر یہ نہیں مان سکتے صلى الله کہ محمد ملے سے کوئی اوتا رافضل گزرا ہے۔مگر ایک ہندو کا حق ہے کہ وہ دعوی کرے کہ ہمارا فلاں اوتا رسب انسانوں سے افضل ہے۔اسی طرح ایک عیسائی بھی کہتا ہے کہ یسوع مسیح محمد (ع) سے افضل ہے۔یہودی بھی کہتا ہے کہ حضرت موسی سب سے افضل ہیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگ بھی اپنے اپنے بزرگوں کو سب سے افضل بتاتے ہیں۔لیکن ان کے اور ہمارے دعوی میں بہت بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ ہمارے دعوی کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں مگر ان کے پاس اپنے دعوی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہمارا نبی یا ہمارا اوتار یا ہمارا خداوند مسیح سب سے افضل ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتے اور ہم جو کہتے ہیں کہ رسول کریم نے سب سے افضل ہیں تو اس کا ثبوت بھی پیش کرتے ہیں جو روز روشن کی طرح ظاہر ہے۔ہاں اگر ہمارے پاس بھی دوسرے مذاہب کے لوگوں کی طرح ثبوت اور دلائل نہ ہوتے تو ہمارا بھی حق نہ تھا کہ یہ دعویٰ کرتے مگر خدا کے فضل سے ہمارے پاس ثبوت اور دلائل