سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 414
سيرة النبي عمال 414 جلد 2 دیکھا جائے تو آریوں کی دو کتابوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کی ایک کتاب نکلے گی۔مسلمانوں کا اگر چہ دفاعی پہلو تھا اور دفاع کرنے والے کو اعتراضوں کے جواب میں زیادہ لکھنا پڑتا ہے مگر پھر بھی آریوں کی طرف سے بہت زیادہ کتابیں لکھی گئیں۔اور اگر اس سے پہلے زمانہ کی طرف جائیں تو وہاں بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہل آریوں کی طرف سے ہوئی۔سب سے پہلی کتاب جو آریوں کے متعلق لکھی گئی وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ ہے۔آریہ کہتے ہیں براہین احمدیہ سے اس جنگ کی ابتدا ہوئی۔مگر یہ بالکل غلط ہے۔وہ کتاب موجود ہے اس میں نہ صرف یہ کہ گالیاں نہیں بلکہ اس میں یہ اصل پیش کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف گالیاں نہیں دینی چاہئیں۔کسی مذہب کے خلاف گندے اور نا پاک اعتراض نہیں کرنے چاہئیں بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی چاہئیں۔اس اصل کے ماتحت حضرت مرزا صاحب نے آریوں کو فرمایا میں تین سو دلائل اسلام کی صداقت کے پیش کروں گا تم ان کو توڑ کر دکھاؤ۔جو انہیں توڑ دے گا اسے دس ہزار روپیہ انعام دوں گا۔پس براہین احمدیہ ہی وہ پہلی کتاب ہے جس نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ دوسرے مذاہب پر اعتراض نہیں کرنے چاہئیں بلکہ اپنے مذہب کی خوبیاں پیش کرنی چاہئیں۔جس کتاب نے اعتراضوں کا دروازہ بند کر دیا اس کے متعلق یہ کہنا کہ اس سے لڑائی کی ابتدا ہوئی کس طرح درست ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بات بھی ہے اور وہ یہ کہ جب ہم براہین احمدیہ کے متعلق دیکھتے ہیں کہ کیوں لکھی گئی تو اس میں لکھا ہوا پاتے ہیں کہ اس کی وجہ وہ گندی گالیاں ہیں جو آریوں کی طرف سے دی جاتی ہیں۔پس کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اس کتاب سے گالیوں کی ابتدا ہوئی۔یہ تو آریوں کی گالیاں روکنے کے لئے اور انہیں تہذیب و شرافت سکھانے کے لئے لکھی گئی۔اگر کوئی کہے کہ آریوں کی وہ گالیاں کہاں ہیں جو براہین احمدیہ سے پہلے دی گئیں ؟ تو اسے اندرمن کی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔پس یہ