سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 413

سيرة النبي ع 413 جلد 2 رسول کے متعلق آریوں کی طرف سے شائع کئے گئے۔پس ”رنگیلا رسول’انیسویں صدی کے مہری کے جواب میں نہیں لکھی گئی بلکہ انیسویں صدی کا مہرشی“ ان کتابوں ، رسالوں اور ٹریکٹوں کے جواب میں شائع کی گئی جو آریوں نے اسلام کے خلاف شائع کئے اور جن میں نہایت ناپاک اور گندی گالیاں دیں۔پھر وہ ان گندے الزامات کے جواب میں ہے جو شدھی کے میدان میں اسلام پر لگائے گئے۔جس گندے پیرائے میں اور جس خطرناک رنگ میں ملکانہ کے علاقہ میں اسلام کو پیش کیا جاتا تھا اور بانی اسلام پر جس طرح گندے الزامات لگائے جاتے تھے وہ چاہتا تھا کہ آریوں کو جواب دیئے جائیں۔پس اگر ایک ایسے شخص نے جس کے مذہب پر اور جس کے ہادی پر ایسے گندے اعتراضات کئے گئے پتھر کے مقابلہ میں پتھر سے جواب دیا تو ہر گز کسی آریہ کا حق نہیں کہ یہ کہے ”رنگیلا رسول ” انیسویں صدی کے مہرشی“ کے جواب میں لکھی گئی۔بلکہ ہمارا حق ہے کہ ہم کہیں انیسویں صدی کا مہرشی‘ ان کتابوں اور ان رسالوں کے جواب میں لکھی گئی جو ملکانوں میں آریوں نے شائع کئے اور ان تقریروں کے جواب میں لکھی گئی جو اسلام کے خلاف ہر جگہ آریوں کی طرف سے کی جاتی ہیں اور ان حملوں کا جواب ہے جو اسلام کی مقدس ہستیوں پر کئے جاتے ہیں۔پس یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ ابتدا مسلمانوں کی طرف سے ہوئی۔موجودہ فتنہ میں بھی ابتدا آریوں کی طرف سے ہی ہوئی۔اور کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ اس جھگڑے سے پہلے ایک رنگ میں مذہبی امن قائم ہو گیا تھا جب کہ ہند و مسلمان مشترکہ طور پر سیاسی میدان میں کود پڑے تھے۔ہندو مسلمان ایک دوسرے کو بھائی بھائی کہنے لگ گئے تھے۔اس وجہ سے اک دوسرے کے خلاف مذہبی گالیاں بند ہو گئی تھیں اور وہ پہلی جنگ جو رولٹ ایکٹ سے پہلے جاری تھی ختم ہو چکی تھی۔پھر نئی جنگ شروع ہوئی جس کی ابتدا آریوں کی طرف سے ملکانوں کے علاقہ میں کی گئی۔ان کے اعتراضوں کے جواب بعض مسلمانوں نے دیئے لیکن پھر بھی اگر