سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 412

سيرة النبي علم 412 جلد 2 ہے کہ دس دن کے اندر اندر تمام قلعے خالی کر دو۔یہ وہ احتیاط تھی جو دنیا میں صلح کی سب سے بڑی خواہش رکھنے والے انسان نے کی۔دنیا میں اگر کوئی سب سے زیادہ امن قائم کرنے والا اور صلح رکھنے والا انسان ہو الله سکتا ہے تو وہ محمد ہے تھے۔مگر آپ نے بھی یہ نہیں کیا کہ جب دشمن نے کہا صلح کر لو تو آپ نے کہا کرلو بلکہ آپ نے دیکھا ان لوگوں نے کسی وقتی جوش کے ماتحت نہیں بلکہ سالہا سال کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کے نتیجہ میں جنگ کی ، انہوں نے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں، باہر کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اکسایا، ہر قسم کے منصوبے کئے۔جب اتنے لمبے عرصہ میں انہوں نے خدا کا کوئی خوف نہ کیا اور کسی شرافت کا ثبوت نہ دیا تو آئندہ ان سے کیا توقع ہو سکتی ہے۔ان حالات میں آپ نے صلح تو کی مگر ایسی شرائط پر کی کہ آئندہ کے لئے خطرہ نہ رہے۔اس وقت جو جھگڑا ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہے اس کے متعلق بھی ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ آیا یہ وقتی جوش کے ماتحت پیدا ہوا۔کسی ایک آدمی نے اٹھایا یا سالہا سال کی کوششوں ، تدبیروں اور منصوبہ بازیوں کا نتیجہ ہے اور قوم کی قوم اس کے پیچھے ہے۔اگر ایک لمحہ کے لئے بھی حالات پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے اندر بہت بڑے بڑے اور بہت سے لوگوں کا دخل ہے اور یہ منصوبہ بیسیوں سال سے چلا صلى الله آ رہا ہے۔رسول کریم ﷺ اور اسلام کی ہتک آج نہیں کی گئی بلکہ آج سے بہت عرصہ پہلے سے یہ نا پاک فعل عمل میں لایا جا رہا ہے۔کہا جاتا ہے میر قاسم علی صاحب نے ”انیسویں صدی کا مہرشی“ کے نام سے جو کتاب شائع کی اس کی وجہ سے ”رنگیلا رسول“ لکھا گیا جو انیسویں صدی کے مہرشی" کا جواب ہے۔اس طرح یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ فتنہ کی ابتدا مسلمانوں نے کی اور مسلمانوں نے ہندوؤں کو بھڑکا یا لیکن یہ قطعاً غلط ہے۔اسلام کے خلاف نیا سلسلہ کتابوں کا شدھی کی تحریک کے ساتھ شروع ہوا۔اُن دنوں میر صاحب کی کتاب سے پہلے کئی گندی کتابیں اور رسالے اسلام، اسلام کے خدا اور