سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 408
سيرة النبي الله 408 جلد 2 رسول کریم علیہ کے بیان فرمودہ توکل کے معنی حضرت مصلح موعود نے 29 جولائی 1927ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔صلى رسول کریم ﷺ کی مجلس میں ایک دفعہ ایک وفد آیا۔آپ نے ان میں سے ایک شخص سے دریافت کیا (چونکہ آپ کھلی جگہ بیٹھے ہوئے تھے شاید آپ نے دیکھ لیا ہو۔اس لئے پوچھا تم نے اونٹ کا کیا انتظام کیا ہے؟ اس نے کہا خدا پر توکل کر کے یوں ہی چھوڑ آیا ہوں۔آپ نے فرمایا جاؤ! پہلے اس کا گھٹنا باندھو پھر خدا تعالیٰ پر توکل کر و 1 پہلے اپنی طرف سے پوری تدبیر کرو اور پھر کہو خدا پر توکل کیا ہے۔پس رسول کریم ﷺ نے خود تو کل کے معنے بتا دیئے کہ پوری تدبیر کے بعد خدا پر بھروسہ ( الفضل 9 اگست 1927 ء ) صلى الله کرنے کا نام تو کل ہے۔“ 1: ترمذى ابواب صفة القيامة باب حديث اعقلها و توكل صفحہ 572 حدیث نمبر 2517 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الاولى