سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 401

سيرة النبي علي 401 جلد 2 نہیں سکتی اس لئے جو امور معمولی ہوتے ہیں اور گورنمنٹ کے قیام کا ان سے تعلق نہیں ہوتا وہ ان میں لوگوں کے مطالبہ کو پورا کر کے اپنے حکم کو واپس لے لیتی ہے۔اس صورت میں کامیابی کے لئے اس قدر تعداد آدمیوں کی چاہیئے کہ جن کو گورنمنٹ جیل خانوں میں رکھ ہی نہ سکے۔جب گورنمنٹ کی طاقت سے قیدی بڑھ جاتے ہیں تو اسے دینا پڑتا ہے۔مگر یہ صورت تبھی کامیاب ہو سکتی ہے کہ جب کسی ایسے کام کے کرنے کا ہم ارادہ کریں جس کی گورنمنٹ اجازت نہیں دیتی۔دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ گورنمنٹ سے لوگ کوئی مطالبہ پورا کرانا چاہیں یا دوسرے لوگوں کو کسی کام سے روکنا چاہیں۔اس صورت میں چونکہ ان کا کام کچھ ہوتا ہی نہیں ، انہیں سول نافرمانی کے لئے کوئی اور چیز تلاش کرنی پڑتی ہے۔مثلاً وہ کہہ دیتے ہیں کہ جب تک گورنمنٹ ہمارا مطالبہ پورا نہیں کرے گی ہم اسے لگان نہیں دیں گے یا ٹیکس نہیں دیں گے۔اس صورت میں بھی قریباً ساری کی ساری قوم کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جن کی جائیدادیں گورنمنٹ اپنے حق کے لئے قرق کرائے، اگر ان کی جائیدادوں کو دوسرے لوگ خرید نے پر تیار ہو جائیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہوگا ، انہی لوگوں کا اپنا نقصان ہوگا۔غرض کوئی صورت بھی ہو سول نافرمانی بغیر سارے ملک کے اتفاق کے یا کم سے کم ایک بڑے حصہ کے اتفاق کے کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔پچھلے چند سالوں میں جرمنی کے لوگوں نے فرانسیسیوں کے خلاف اس علاقہ میں جو فرانس والوں نے لے لیا تھا سول نافرمانی کی تھی۔مگر وہ باوجود ایک قوم اور بڑے تعلیم یافتہ ہونے کے کامیاب نہ ہو سکے اور آخر مجبوراً انہیں اپنا رویہ بدلنا پڑا۔مگر جو سامان جرمنوں کو حاصل تھے وہ مسلمانوں کو حاصل نہیں اور پھر سب ملک میں صرف وہی آباد نہیں ہیں بلکہ اس ملک میں ایک بڑی تعداد سکھوں اور ہندوؤں کی بھی ہے۔پس سول نافرمانی سے گورنمنٹ کے کام نہیں رکیں گے بلکہ صرف یہ نتیجہ ہو گا کہ جو تھوڑی بہت تجارت اور زمیندارہ