سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 400
سيرة النبي علم 400 جلد 2 چاہئیے نہ کہ ان کی مخالفت کرنی چاہئے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہائی کورٹ کے ایک جج کے فیصلہ کے نتیجہ میں ہندوؤں کو اور بھی دلیری ہو گئی ہے اور انہوں نے پہلے سے بھی سخت حملے اسلام پر شروع کر دیئے ہیں۔لیکن پھر کیا یہ بھی درست نہیں کہ گورنمنٹ اس فیصلہ کو بدلوانے کی پوری کوشش کر رہی ہے اور غیر معمولی ذرائع سے جلد سے جلد اس مفسدہ پردازی کا ازالہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور ہز ایکسیلینسی (His Excellency گورنر پنجاب نے مسلمانوں کے وفد کے جواب میں نہایت پر زور الفاظ میں مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار اور ان گندے مصنفوں کے خلاف ناراضگی کا اظہار اور ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔جب حالات یہ ہیں تو پھر کیا اخلاق ، کیا عقل اور کیا فوائد اسلام ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ ہم سول نافرمانی کو جو ہندوؤں کے خلاف نہیں بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہے اختیار کریں اور کیا اس ذریعہ سے ہند و رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے سے باز آ جائیں گے؟ سول نافرمانی اسلام اور مسلمانوں مگر علاوہ اس کے کہ سول نافرمانی اس موقع پر اخلاق کے خلاف ہے وہ اسلام اور کے فوائد کے خلاف ہے مسلمانوں کے فوائد کے بھی خلاف ہے۔سول نافرمانی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ لاکھوں آدمی اس کے لئے تیار نہ ہوں۔سول نافرمانی دوغرضوں کیلئے ہو سکتی ہے:۔1۔جب کہ ہم کوئی کام کرنا چاہیں جسے گورنمنٹ منع کرتی ہو۔2۔جب کہ ہم گورنمنٹ کو کسی کام کے کرنے سے روکیں یا اس سے کوئی کام کروانا چاہیں۔صورت اول میں اس قدر کافی ہوتا ہے کہ بہت سے آدمی اس کام کو کرنے لگیں کہ جس سے گورنمنٹ روکتی ہو۔اگر گورنمنٹ ان کو رد کے تو وہ نہ رکیں حتی کہ گورنمنٹ مجبور ہو جائے کہ انہیں گرفتار کرے۔چونکہ گورنمنٹ لاکھوں آدمیوں کو قید میں ڈال