سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 25

سيرة النبي الله 25 جلد 2 رسول کریم علیہ کی غیرت ایمانی حضرت مصلح موعود نے 7 جنوری 1920ء کو قادیان میں بعد نماز عصر ایک تقریر فرمائی جو 26 جنوری 1920 ء کے الفضل میں شائع ہوئی۔اس میں رسول کریم ﷺ کی غیرت ایمانی کا ذکر بایں الفاظ ملتا ہے:۔ایک مسلم کے لئے ایک مذہبی آدمی کے لئے مذہب غیرت کی چیز ہے۔اس کو جب غیرت آتی ہے تو مذہبی معاملہ میں غیرت آتی ہے اور اس کے ماتحت جو کام مذہب کا اس سے کرانا ہو وہ اس کو کرے گا سوائے اس کام کے جس میں خدا کی طرف سے روک پیدا کر دی جائے۔اسی غیرت کے ماتحت بڑے بڑے کام ہوئے ہیں۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے جھوٹا نبوت کا دعویٰ کیا اور اس نے رسول کریم علے سے مقابلہ بھی کیا تھا اور حضور کی زندگی میں نصف ملک کا مطالبہ کیا تھا۔اس وقت حضور کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ میں تو اس کو یہ بھی نہیں دوں گا1۔“ ( الفضل 26 جنوری 1920ء) اسی لیکچر میں رسول کریم ﷺ کی غیرت ایمانی کا یہ واقعہ بھی مذکور ہے۔فرمایا:۔رسول کریم علیہ کے پاس عرب کے نمائندے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ کو دولت کی تمنا ہے تو عرب کی آدھی دولت حاضر کرتے ہیں۔اگر عورت چاہتے ہیں تو جو عورت پسند ہو وہ پیش کرتے ہیں۔اگر حکومت چاہتے ہیں تو ہم بادشاہ ماننے کو تیار ہیں۔مگر آپ ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دیں۔گویا کہ وہ بتوں کی غیرت کے لئے ننگ و ناموس بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں مگر نبی کریم ﷺ کی غیرت ,, 66