سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 375

سيرة النبي علم 375 جلد 2 منع کیا گیا ہے دوسرے مذاہب کے بزرگوں کو برا کہنے سے۔ان کو بتایا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے آنے سے پہلے تمام قوموں میں انبیاء آتے رہے ہیں۔اس وجہ سے ایک مسلمان جہاں رسول کریم ﷺ کی عزت کرتا ہے وہاں حضرت یحیی حضرت موسی ، حضرت ابراہیم ، حضرت نوح ، حضرت حزقیل، حضرت دانیال کا بھی ادب کرتا ہے۔اسی طرح اور مذاہب کے بزرگوں کے نام اگر چہ قرآن میں نہیں آئے مگر قرآن کہتا ہے سب قوموں میں نبی بھیجے گئے۔اس لئے ایک مسلمان زرتشت، کرشن ، رام چندر اور تمام ان بزرگوں کو جن کا دوسری اقوام ادب کرتی ہیں ان کی عزت کرتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا ہے ان میں سے سارے یا بعض ایسے ہیں جو اپنی اپنی قوم کی ہدایت کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے تھے۔اس وجہ سے اور قوموں کے لوگ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ان کی بدزبانیوں کا جواب نہیں دے سکتے ورنہ مسلمان ایسا جواب دے سکتے ہیں کہ ان معترضین کو اپنے گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہو جائے۔ویدوں میں دیوتاؤں اور رشیوں کے جو حالات لکھے ہیں اور گیتا میں کرشن کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ ہم سے پوشیدہ نہیں۔کیا ہندوؤں کی کتابوں میں یہ نہیں لکھا کہ ایک رشی ایک عورت پر عاشق ہو گیا اور اس کی ایسی حالت ہوگئی جو مرد عورت کے ملنے سے ہوتی ہے۔اس پر اس نے دھوتی اتار کر رکھی تو اس دھوتی سے بچہ پیدا ہو گیا۔پھر انہی کتابوں میں رکمنی کا جو واقعہ لکھا ہے وہ کس سے پوشیدہ ہے کہ کرشن جی اسے لے کر بھاگ جاتے ہیں۔اسی طرح ان کتابوں میں اور جو سینکڑوں نہایت شرمناک واقعات درج ہیں وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ نہیں۔مگر ہم جانتے ہیں ان بزرگوں کی طرف جو گندے واقعات منسوب کئے گئے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں۔انہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں دنیا میں صداقت قائم کی تھی اور وہ لوگوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے کیونکہ ہمیں قرآن بتاتا ہے کہ ہر قوم میں خدا نے نبی بھیجے۔اس وجہ سے ہم سب قوموں کے بزرگوں کو پارسا سمجھتے ہیں اور ان کے خلاف زبان درازی نہیں