سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 370 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 370

سيرة النبي عل الله 370 جلد 2 وجہ ہو سکتی ہے۔اگر کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کے اثر سے سناتنیوں، آریوں ، سکھوں ، عیسائیوں اور یہودیوں وغیرہ کے لئے اعتراض کا کوئی موقع نہیں تو پھر مسلمانوں کے لئے کہاں موقع ہے۔جس طرح مسلمانوں کے بزرگوں کے خلاف دل آزار تحریریں شائع کرنے کا رستہ کھلا ہے اسی طرح دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے خلاف بھی تو رستہ کھلا ہے۔پھر خود ہی اس کی توجیہ کی ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کا اس کے متعلق شور مچانا اور گورنمنٹ کو قانون کے اس نقص کی طرف توجہ دلانا بتا تا ہے کہ جب دوسرے مذاہب والوں کو اپنے بزرگوں کے خلاف کسی قسم کی نکتہ چینی کا خوف نہیں تو مسلمانوں کے نبی کی زندگی میں ایسی باتیں موجود ہیں جن پر نکتہ چینی ہونے سے مسلمان ڈرتے ہیں۔گویا ان کے نزدیک چونکہ مسلمان سب سے زیادہ راجپال کے فیصلہ کے خلاف شور مچار ہے ہیں اور اس قسم کی تحریروں کو روکنے کے لئے قانون بنانے کے متعلق سب سے زیادہ زور دے رہے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ان کے دلوں میں یقین ہے کہ ان کے نبی کی زندگی ایسی خراب ہے کہ لوگ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں اور کریں گے مگر وہ قانون میں کوئی ایسی دفعہ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا منہ بند نہ کر سکیں گے۔اس وجہ سے مسلمان شور مچارہے ہیں تا کہ قانون کے ذریعہ ایسے لوگوں کی زبان بند کرا دیں۔میں ایسے لوگوں سے اس حد تک تو متفق ہوں کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے زیادہ زور سے آواز اٹھائی ہے مگر جو نتیجہ اس سے نکالا گیا ہے وہ سرتا سر غلط ہے۔اگر مسلمانوں نے اس فیصلہ کے خلاف جوش کا اظہار کیا اور غم و غصہ دکھایا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ متعدد ہند و مصنف ایسے پائے گئے جو شرافت اور انسانیت کے مطالبات سے قطع نظر کر کے رسول کریم ﷺ پر ایسے گندے اور کمینے حملے کر رہے ہیں جن کو کوئی شریف انسان برداشت نہیں کر سکتا۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جس مذہب کے بانی کے خلاف ایسے گندے اعتراض کئے جائیں گے اسی کے