سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 369
سيرة النبي الله 369 جلد 2 کتاب ”رنگیلا رسول“ کا جواب حضرت مصلح موعود نے یکم جولائی 1927 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔پچھلے دنوں رسول کریم ﷺ کے متعلق جو کسی گندہ دہن انسان نے ایک کتاب رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی اس پر جب مسلمانوں کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ایسی دل آزار تحریروں کو قانونا بند کرنا چاہئے کیونکہ وہ مختلف اقوام ہند کے درمیان منافرت اور تباغض پیدا کرتی ہیں تو اس پر بعض ہندو اخبارات نے اور خصوصاً ملاپ“ اور ”پر تاپ“ نے یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کو ایسی تحریروں کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلانے کی کیا ضرورت ہے اور مسلمان اس بات پر کیوں ناراض ہوتے ہیں کہ قانون میں اس قسم کی تحریروں کے لکھنے والوں کے لئے کوئی دفعہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ان کو سزا دی جا سکے۔کیونکہ قانون میں اگر نقص ہے تو اس کا اثر ہندوؤں، سکھوں ، عیسائیوں، یہودیوں، سناتنوں سب پر پڑے گا۔چونکہ کسی ایسی دفعہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے جس کے ذریعہ ایسی تحریروں کو روکا جا سکے مختلف مذاہب کے بانیوں پر حملے کئے جا سکتے ہیں اور ان کے اعزاز اور احترام کے خلاف جائز و نا جائز نکتہ چینی کی جا سکتی ہے اس لئے مسلمانوں ہی کے لئے خطرہ نہیں کہ ان کے بزرگوں کے خلاف سخت تحریریں شائع ہوتی ہیں بلکہ ایسا ہی خطرہ ہندوؤں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ سکھوں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ عیسائیوں کے لئے بھی ہے۔ایسا ہی خطرہ یہودیوں کے لئے بھی ہے۔اگر یہ لوگ اس قسم کی دفعہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے شور نہیں مچا ر ہے، کوئی شکوہ نہیں کر رہے تو مسلمانوں کے شور مچانے کی کیا